تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظیم ہے ، جو علوم ومعارف، حکمتوں، نصیحتوں، سچے واقعات اور ڈرانے والی اور ترغیب والی باتوں پر مشتمل ہے ، جس میں اگلوں کے واقعات ہیں، قیامت میں اٹھائے جانے اور جنت ودوزخ سے متعلق آئندہ کی سچی خبریں ہیں اور وہ سب ہے جو اس کے علاوہ کسی کتاب میں نہیں ۔ بعض علمائے کرام تو یہاں تک فرماتے ہیں: اگر یہ قرآنِ پاک کسی چٹیل میدان میں کاغذوں میں لکھا ہوا ملتا اور پتہ نہ چلتا کہ کس نے رکھا ہے تو بھی درست عقلیں گواہی دیتیں کہ یہ کتاب بلا شبہ اللہ پاک کی طرف سے نازل ہوئی ہے ، ایسی کتاب لکھنا انسان کے بس کی بات ہی نہیں، جب اُس فرضی صورت میں یہ حال ہوتا تو اب کیا شان ہوگی جبکہ یہ کلام لوگوں کو اُن کے ہاتھوں سے ملا جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچے ، نیک اور پرہیزگار ہیں اور انہوں نے خود فرمایا کہ یہ اللہ پاک کا کلام ہے ، فقط یہی نہیں فرمایا بلکہ ساتھ ہی سب لوگوں کو مقابلے کی دعوت بھی دی کہ ایسی ایک سورت ہی بنا لاؤ لیکن یہ کسی سے نہ ہوسکا، چنانچہ ارشاد ہوا:
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ (پ۱، البقرة: ۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں ۔
اور فرمایا:
اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْؕ- (پ۲۱، العنکبوت: ۵۱) ترجمۂ کنز الایمان: اور کیا یہ اُنھیں بس نہیں کہ ہم نے تُم پر کتاب اُتاری جو اُن پر پڑھی جاتی ہے ۔
الغرض اگرحضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس قرآنِ پاک کے علاوہ کوئی معجزہ نہ بھی ہوتا تو قرآنِ پاک ہی آپ کی سچائی کی کافی دلیل ہوتا، تو اب کیا حال ہوگا جبکہ رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمینی وآسمانی معجزات بے شمار ہیں ۔
دلوں کو ستھرا کرنے والے رسول:
اس فرمانِ باری تعالیٰ (وَ یُزَكِّیْهِمْ یعنی اور (وہ رسول) انہیں پاک کرتے ہیں) سے مرادیہ ہے کہ رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے دلوں کو شرک ، نافرمانی اور گمراہی کی گندگی سے ستھرا اور پاکیزہ فرماتے ہیں کیونکہ جانیں تبھی پاکیزہ ہوتی ہیں جب ان آلودگیوں سے پاک صاف ہوجائیں اور جس کی جان پاک ہوگئی وہ