Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
99 - 627
حدیث نمبر:8  			سچا مجا ہد کون؟
	عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی عَبْدِاللہِ بْنِ قَیْسِ الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:’’ سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ رِیَآئً أَیُّ ذَلِکَ فِی سَبِیْلِ اللہِ؟فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیْلِ اللہِ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (بخاری ، کتاب التوحید باب قولہ تعالٰی ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین،۴/ ۵۶۱،حدیث:۷۴۵۸بتغیر قلیل)
	ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا ابو موسی عبداللہ بن قَیْس اَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ’’ ایک آدمی بہادری دکھا نے کے لئے ،ایک قومی غیرت اورایک رِیا کاری کی غرض سے لڑتا ہے تو ان میں سے کون اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے؟‘‘ َ ارشادفرمایا:’’ جو اس غرض سے لڑے کہ اللہعَزَّوَجَلَّ  کا کلمہ بلند ہو ،تو وَہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے ۔‘‘ 
اچھی نیت سے اعمال اچھے بنتے ہیں 
	حضرت سیِّدُناعلامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِی میں فرماتے ہیں :  
(1)کَلِمَۃُاللہِ سے مراد اسلام کی دعوت دینا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ ہے۔ 
 (2)نیک اَعمال اچھی نیت سے ہی نیک بنتے ہیں۔ 
 (3)عبادت میں اِخلاص شرط ہے ، جومحض کسی دُنیوی غرض سے کوئی نیک عمل کرے تو اُس عمل کے ضائع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور اگر اُس عمل کو کسی دینی غرض کی وجہ سے کیا جائے تو جمہور کے نزدیک وہ عمل درست ہے۔ 
  (4)جو فضیلت مجاہدین کے بارے میں بیان ہوئی ہے وہ ان مجاہدین کے لئے ہے جو دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کریں۔ 
(5) نبیِّ آ خر الزماں ، سرْورِ ذِیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فصاحت و بلاغت کااعلیٰ مرتبہ عطا فرمایا گیا۔ آپ صَلَّی