اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سوال کرنے والے کو اس کے سوال کے الفاظ سے ہٹ کر بہت جامع اندازمیں جواب عطا فرمایا کیونکہ غَیْظ و غَضَب اور حَمِیَّت (شرم، غیرت) کبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہوتی ہے تو کبھی دنیا کے لئے ، اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مختصر الفاظ میں جواب ارشاد فرمایا کہ’’ جو دینِ اسلام کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے‘‘۔
(عمدۃ القاری ، کتاب العلم باب من سئل وھو قائم عالما جالسا ، ۲/ ۲۷۸، تحت الحدیث:۱۲۳)
حضرتِ سیِّدُناعلَّامہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : اعمال ہمیشہ اچھی نیتوں سے ہی اچھے بنتے ہیں۔اور مُجَاھِدِیْنکے بارے میں جو فضیلت حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو اللہعَزَّوَجَلَّ کے کلمے یعنی دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کرے۔ ’’حَمِیَّۃً‘‘سے مرا دجوش و غیرت ہے اورغیرت آل و اولادکی طرف سے ہوتی ہے۔
(شرح مسلم للنووی ،کتاب الامارۃ ، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ… الخ ،۷/۴۹، الجزء الثالث عشر)
حضرت سیِّدُنا عَلَّامَہحَافِظ اِبِنْ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفتح الباری میں حدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں : یہ حدیث پاک مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ کے پانچ اسباب ہیں :(1)مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لئے (2)بہادری ظاہرکرنے کے لئے (3)دکھاوے کے لئے (4)غیرت کی وجہ سے (5)غصے کی وجہ سے ۔ان تمام میں سے ہر سبب اچھابھی ہوسکتا ہے اور برابھی(اگر یہ سب کام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے ہوں تو اچھے اور اگر دنیوی غرض کے لئے ہوں تو برے ) اسی لئے حدیثِ مذکور میں سائل کو ہاں یا نہ کے ساتھ جواب نہیں دیا گیا ۔ (فتح الباری ، کتاب الجہاد والسیر، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا، ۷/۲۴، تحت الحدیث:۲۸۱۰)
نِیَّت بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیت بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں ،عمل کی اچھائی یا برائی نیت پر موقوف ہے۔جواللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی سربُلندی اور کفر کو مغلوب کرنے کی نیت سے جہاد کرے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ کا مجاہ