Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
98 - 627
مطابق ہوتے ہیں۔
(2) سیرت و صورت دونوں ہی شریعت کے مطابق ہونی چاہئیں ،اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار بُرا ہو تب بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو اورظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔
 (3)بسا اوقات بُری نِیَّت سے نیکیاں کرنے کی وجہ سے انسان کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا ۔
(4) توبہ کرنے کے بعد گناہوں سے بالکل دور ہوجانا چاہئے ورنہ بہت بڑے اُخروِی نقصان کاا ندیشہ ہے۔
(5)    اگرنِیَّت میں اِخلاص ہو اور پھر لوگ واہ واہ کریں تو اس سے ثواب میں کمی نہیں آئے گی بلکہ یہ تو رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دُنیَوِی انعام ہے( مراٰۃ المناجیح ، ۱/ ۱۸۱ ) اِمامُ الْمُخْلِصِیْن، سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن ،شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم اور اُن کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللَّہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی آج تک دونوں جہانوں میں واہ واہ ہورہی ہے اور قیامت تک بلکہ اسکے بعدبھی ہوتی رہے گی۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ 
ہے کلام الٰہی میں شمس وضحی تیرے چہرۂ نورفزاکی قسم	 	قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلفِ دوتا کی قسم 
تیرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا تیری خَلْق کو حق نے جمیل کیا	کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا !تیرے خا لقِ حسن و اداکی قسم
 
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہر عمل اپنی رضا وخوشنودی کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭