کی دعا کرتے ہیں کیونکہ بہت سے روزے دار اور راتوں کو قیام کرنے والے بُرے خاتمے سے دوچار ہو گئے۔
(ملخصاًالروض الفائق ص۱۷)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ بُری نِیَّت اور رِیا کاری انسان کو کیسی بڑی بڑی آفات میں مبتلا کر دیتی ہے ۔اعمال برباد ہوجاتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے دوری ہوجاتی ہے، مرتے وقت اگر کوئی نیک عمل کرنا بھی چاہے تو بسا اوقات اس کی توفیق بھی نہیں ملتی۔ اور انسان حسرت بھری موت مر جاتا ہے ۔ ہمیں خدائے بزرگ وبرتر کی خفیہ تدبیر سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ رو رو کر اپنے گناہوں سے سچی توبہ اورا س توبہ پر استقامت کی دعا کرنی چاہئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے اور ہر عمل صرف اور صرف اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ایک اہم مسئلہ : اگر کوئی مسلمان مرتے وقت کلمہ نہ پڑھ سکے یا معاذَاللہ اس کی زبان سے کوئی کفریہ کلمہ نکل جائے پھر بھی اس پر کفر کا حکم نہیں لگا یا جائے گا ہوسکتا ہے کہ موت کی سختی کی وجہ سے اس کی زبان سے ایسے الفاظ بِلا قصد نکلے ہوں۔ دعوت اسلامی کے اِشاعتی ادارے مَکتَبَۃُالمدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد اول حصہ4 ص 809 پر ہے : ’’مرتے وقت مَعَاذَاللہاس کی زبان سے کلمہ کفر نکلا تو کفرکاحکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کلمہ نکل گیااور بہت ممکن ہے کہ اس کی بات پوری سمجھ میں نہ آئے کہ ایسی شدت کی حالت میں آدمی پوری بات صاف طور پراداکرلے ،دشوارہوتا ہے۔‘‘
مَدَنی گلدستہ
’’ اِخلاص‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے اس حد یث ِمبارَکہ اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) انسان کا ظاہر و باطن دونوں درست ہونے چاہئیں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں فیصلے انسان کی باطنی کیفیت کے