Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
94 - 627
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمْ اَعْمٰلَہُمْ فِیۡہَا وَہُمْ فِیۡہَا لَا یُبْخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾				 (پ۱۲، ہود :۱۵)ترجمۂ کنزالایمان: جودنیا کی زندگی اور  آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔ 
(جامع العلوم والحکم من خمسین۔۔۔الخ، تحت الحدیث الاول،ص۲۷) 
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
 معاملہ نہایت تشویشناک ہے 
	معاملہ نہایت نازک و تشویشناک ہے کہ ریا کار شہید کی جان بھی گئی اور آخرت بھی برباد ہوئی اور بروز قیامت اس سے کہا جائے گاکہ ’’جہاد سے تیرا مقصوداسلام کی سر بلندی نہیں بلکہ اپنی تعریف تھی، لہٰذا دنیا میں تیری خوب واہ واہ ہوگئی اور تجھے تیرے جہاد کا بدلہ دنیا میں مل گیا‘‘ اسی طرح عالِم نے علمِ دین سیکھنے میں کتنی مشقتیں برداشت کیں سب رائیگاں گئیں اور ایسی مصیبت ملی کہ سب سے پہلے جہنم میں نہایت ذِلّت کے ساتھ گھسیٹ کر پھینکا جائے گا، جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ! عالِم سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لیے نہ تھی بلکہ عِلْم کے ذریعہ عزت و مال کمانے کے لئے تھی وہ تجھے دنیامیں حاصل ہوگئے اب ہم سے کیا چاہتا ہے ،اسی طرح ریا کار سخی کا حال ہوگا کہ مال بھی گیا اور جہنم کا عذاب بھی مقدَّر ہوا ، اگرچہ عالمِ دین، شہید اورسخی کا مقام بہت بلند ہے لیکن جب نِیَّت میں خرابی ہو تو سرَا سر خسارہ ہے حدیثِ مذکورمیں تینوں کو عمل میں اخلاص نہ ہو نے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔ ( مراٰۃ المناجیح،  ۱/ ۱۹۱ -۱۹۲، ملخصاً)
	 اس حدیث پاک کو دیکھتے ہوئے بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلامنے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اور جنہوں نے لکھا ہے وہ نامْوَری ومشہوری کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لیے لکھا۔( مراٰۃُ المناجیح ، ۱/۱۹۱ )اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مُخْلِص بندوں کے صَدْقے ہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ریا کاری کی