عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیری رضا کے لئے جہاد کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے :فلاں شخص بہت بہادرہے، تو یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی۔ پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص کہ جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قراٰن کی تلاوت کی، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تجھے جو علم عطا ہوا اس کے بارے میں تیرا عمل کیسا رہا؟ وہ عرض کرے گا :اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قراٰن کی تلاوت کی۔اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص عالِم ہے اور تو نے قراٰن اس لئے پڑھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے، یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی ،پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا شخص وہ ہوگا جسیاللہعَزَّوَجَلَّنے بہت وُسعت اور کثیر مال عطا کیا تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہعَزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو نے اس کے شکر میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب میں نے کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس میں تجھے خرچ کرنا پسند ہو اور میں نے تیری رضا کے لئے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّفرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں شخص بہت سخی ہے پس (دنیا میں )کہہ لیا گیا، پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار،ص ۱۰۵۵، حدیث :۱۹۰۵)
حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گِریَہ وزَارِی
جب یہ حدیث ِپاک حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ َرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے بیان کی گئی توآپ اتنا روئے اتنا روئے ،قریب تھا آپ کی رُوح پرواز کر جاتی، پھر فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّنے سچ فرمایاہے :