Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
95 - 627
تباہ کاریوں سے ہماری حفاظت فرمائے ، ہر کام اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّم
 میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو 
کر اخلاص  ایسا  عطا  یا الٰہی 
	بُری نِیَّت کے وَبال سے متعلق ایک نہایت ہی عبرتناک اور دل ہلادینے والی حکایت پڑھئے اور اپنے کریم پروردگا ر سے اخلاص کی عظیم دولت کی بھیک مانگئے ! چنانچہ،
رِیا کاری کی تباہ کاری  
	حضرتِ سیِّدُنا منصور بن عَمَّا ر عَلَیْہ ِرَحْمَۃُاللَّہِ الغَفَّار  ارشاد فرماتے ہیں :’’ ایک نہایت عبادت گزار،پابندِ تَہَجُّداور گِرْیَہ وزَارِی کرنے والا شخص میرا بہت مُعْتَقِداور میرے دُکھ سُکھ کا ساتھی تھا۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے میرے پاس آیا کرتا تھا۔ پھر کافی دن تک نہ آیا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ شدید بیمار ہے۔ میں اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ اس کا چہرہ سیاہ، آنکھیں نیلی اورہونٹ موٹے ہو چکے ہیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: ’’اے میرے بھائی! لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکی کثرت کر! ‘‘اس نے آنکھیں کھولیں اور بمشکل میری طرف دیکھا، پھر اس پر غشی طاری ہو گئی۔ دوسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ۔ تیسری مر تبہ میں نے کہاکہ ’’اگر تو نے کَلِمَۂ طَیِّبَہ نہ پڑھا تو نہ میں تجھے غسل دوں گا، نہ کفن اور نہ ہی تیری نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔‘‘یہ سن کر اُس نے آنکھیں کھولیں اور کہا ’’اے میرے بھا ئی منصور! کلمۂ طیبہ اور میرے درمیا ن رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوۃ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم‘‘ کہاں گئیں تیری وہ نمازیں ، وہ روزے اور راتوں کا قیام؟‘‘ :یہ سن کر اس نے بڑی حسرت سے کہا :، میرے وہ اعمال اللہعَزَّوَجَلَّ  کی رضاکے لئے نہیں تھے، بلکہ میں اس لئے عبادت کیا کرتا تھا تاکہ لوگ مجھے نمازی، روزے داراور تہجدگزار کہیں۔ جب میں تنہائی میں ہوتا توچھپ کر بَرَہْنہ ہو کر شراب پیتااور نافرمانیوں سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکا مقابلہ کرتا۔ ایک عرصہ تک گناہوں کا یہ