ظاہر وباطن دونوں کادرست ہونا ضروری ہے
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ’’دیکھنے ‘‘سے مراد ’’کرم ومحبت سے دیکھنا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو بھی دیکھتا ہے، جب اچھی صورتیں اچھی سیرت سے خالی ہوں ، ظاہر باطن سے خالی ہو(یعنی صرف ظاہر اچھا ہو اور باطن برا ہو ) مال صَدَقہ وخیرات سے خالی ہو، تو ربّ تعالیٰ اسے نظرِ رحمت سے نہیں د یکھتا، ا س حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ صرف اعمال اچھے کرو اور صورت بُری بناؤ بلکہ صورت و سیرت دونوں ہی اچھی( یعنی شریعت کے مطابق ) ہونی چاہئیں۔ کوئی شریف آدمی گندے برتن میں اچھا کھانا نہیں کھاتا، رب تعالیٰ صورت بگاڑنے والوں کے اچھے اعمال سے بھی خوش نہیں ہوتا۔اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار برا ہو تو بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو ظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح ، ۷ /۱۲۸)
بُری نِیَّت اعمال کو برباد کر دیتی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی توجۂ خاص کامرکز ہے ۔ اس کی بارگاہ میں مقام ومرتبہ اور ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک دِلی کیفیت درست نہ ہو۔ اس لئے اپنے دل کوبُری صِفات سے پاک وصاف اوراچھے اخلاق واچھی سوچ سے معمور رکھنا چاہئے، وہاں دلی کیفیت پر فیصلے ہوتے ہیں ،اگر نِیَّت درست نہیں تو عمل بے کار وباعثِ وَبال ہے۔ چنانچہ،
تین رِیا کاروں کا اَنجام
نبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال کیا جائے گا،ایک وہ جو راہِ خدا میں قتل کیا گیا تھا ،اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:’’ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کیا ؟‘‘ وہ