Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
91 - 627
حدیث نمبر:7		اللہ عَزَّوَجَلَّ دِلوں کو د یکھتا ہے  
	عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ  عَبْدِالرَّحْمٰنِ  بْنِ صَخْرٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:’’ إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ ‘‘(مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص۱۳۸۷، حدیث: ۲۵۶۴)
	 ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔‘‘ 
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی  مِرقاۃ میں  اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نظراعتباری  سے تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ اس کے ہاں تمہاری خوبصورتی وبد صورتی کاکوئی اعتبار نہیں اور نہ وہ تمہارے اَموال کی طرف نظر فرماتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک ان کی قِلَّت و کَثْرَت(کمی و زیادتی) کا کوئی اعتبار نہیں ،بلکہ دلوں میں موجود یقین،صِدق،اِخلاص،رِیا کاارادہ،شہرت اور بقیہ اَخلاقِ حَسَنَہ(اچھے اخلاق) اوراَخلاقِ سَیِّئَہ (برے اخلاق) کو دیکھتا ہے اور تمہارے اَعمال دیکھتا ہے یعنی ان کی اچھی بُری نیت کو اور پھر اس کے مطابق تمہیں اُن اعمال کی جزا عطا فرمائے گا۔ نِہَایَہ میں ہے کہ یہاں ’’نظر ‘‘کامعنی پسندیدگی یارحمت ہے اس لئے کہ کسی پر نظر رکھنا محبت کی دلیل ہے جب کہ ترکِ نظر( نظر ہٹا لینا) غضب ونفرت کی علامت ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۹/۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۴)
	علَّا مہنَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی     فرماتے ہیں :حد یث میں فرمایا گیا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری صورتوں کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘ ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ صرف ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتابلکہ دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت ،اس کے ڈر اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس سے حاصل ہوتاہے  ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ۸/۱۲۱، الجزء السادس عشر)