Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
90 - 627
  اورناجائز امور کا باعث بنے وہ بُراہے ۔ 
(6)جس کے وارث ہوں اُسے ایک تِہائی (1/3)مال سے زیادہ کی وَصِیَّت کرنا جائز نہیں اور اگر کوئی وارث نہ ہو تو پھرکُل مال کی وصیت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ فیوض البارِی میں ہے:اگر مسلمان ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ وصیت جائز و نافذ ہوگی اور اگر اس کے وارث ہوں تو وصیت نافذ نہ ہوگی الَّا یہ کہ اس کے وُرَثا اجازت دیدیں تو پھر تہائی سے زیادہ کی وصیت بھی نافذ و جائز ہوگی۔(فیوض الباری کتاب الوصایا، ۱۱/ ۶۲)
	اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرمائے اورعَشَرَہ مُبَشَّرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کے صدْقے ہمیں بھی جنتُ الفِرْدَوْس میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس عطافرمائے! 
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭٭