اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مَکَّۂ مُکَرَّمَہ سے ہجرت کے بعد یہاں دفن ہونا پسند نہ تھا۔ اسی لئے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انکے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں انتقال پر اِظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’سَعد بن خَولہ قابلِ رحم ہے۔‘‘معلوم ہوا کہ کسی کے مرنے پر اظہارِ افسوس جائز ہے، نوحہ جائز نہیں۔
اللہعَزَّوَجَلَّہمیں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سچی محبت عطا فرمائے ،ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ا ن کے صَدْقے دین متین کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ان جیسا دینی جذبہ عطافرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مَدَ نی گُلد ستہ
اَنْبِیاء(عَلَیْھِمُ السَّلَام) کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6 مدنی پھول
( 1)مریض کی عِیادت کرنا سنت ِمبارکہ ہے ۔
(2) کوئی کام کرنے سے پہلے کسی صاحبِ علم سے شرعی رہنمائی لے لینی چاہئے ۔
(3) کوئی مباح کام کرتے وقت اگر رضا ئے الٰہی کی نِیَّت کرلی جائے تو وہ مباح کام بھی طاعت ونیکی بن جاتا ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے ۔
(4) بیوی بچوں پر خرچ کرنا اور انکے نان نفقے کا انتظام کرنا بھی باعثِ اجر وثواب ہے بشرطیکہ نِیَّت یہ ہو کہ ان کا نفقہ اللہعَزَّوَجَلَّنے مجھ پر فرض کیاہے، لہٰذا میں اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہوں۔اسی طرح اولادکے لئے حلال مال چھوڑ جانابھی گناہ نہیں بلکہ اگر انہیں حاجت ہو تو ان کے لئے مال چھوڑ نا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔
(5) حلال طریقے سے جمع کیا ہوا مال اگر اچھے کاموں میں خرچ کیا جائے تو ایسا مال اچھا ہے اورجو مال گناہوں