17لڑکے اور 17لڑکیاں ہوئیں جن میں سے دو کے نام عائشہ ہیں ان میں ایک صحابیہ اور دوسری تابعیہ ہیں جن سے امام مالک (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق)روایت کرتے ہیں۔ (ملخصاً نزھۃ القاری، ۲/۸۰۰۔۸۰۲)
دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری
حضرتِ سَیِّدُنا سَعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَشَرَہ مُبَشَّرہمیں سے ہیں ، حضور رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے بہت سے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو مختلف اوقات میں جنت کی بِشارَت دی اوردنیا ہی میں ان کے جنتی ہونے کااعلان فرمادیامگردس ایسے جَلِیلُ القَدَر اورخوش نصیب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْہیں جن کو آ پ نے مسجد ِنبوی کے منبر شریف پر کھڑے ہوکرایک ساتھ ان کا نام لے کر جنتی ہونے کی خوش خبری سنائی ۔ تاریخ میں ان خوش نصیبوں کا لقب عَشَرَہ مُبَشَّرہہے ۔(کراماتِ صحابہ،ص۵۳)جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں :
(۱)حضرت سیدنا ابو بکرصدیق (۲)حضرت سیدناعمر فاروق (۳)حضرت سیدنا عثمان غنی (۴)حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (۵)حضرت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ (۶)حضرت سیدنا زبیر بن العوام (۷)حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف (۸)حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص (۹)حضرت سیدناسعید بن زید (۱۰)حضرت سیدناابو عبیدہ بن الجراح (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن) (ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقبِ عبدالرحمن بن عوف، ۵/۴۱۶، حدیث:۳۷۶۸)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
حضرتِ سَیِّدُنا سَعَد بن خَولہ رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُ
حدیث مذکور میں حضرت سَیِّدُنا سَعَد بن خَولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ذکر ہوا۔ آپ یمن کے رہنے والے عَجَمِیُ النَّسْلاورسَابِقِیْن اَوَّلِیْن صحابہعَلَیْھِمُ الرِّضْوَان میں سے تھے ۔ غزوہ ٔ بَدَر، اُحُد،خَنْدَق،صُلَح حُدَیْبِیَہمیں شریک ہوئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے اپنا وطن مَکَّۂ مُکَرَّمَہ چھوڑ کر پہلے حبشہ پھر مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی جانب ہجرت کی۔ حَجَّۃُ الْوَدَاع کے موقع پر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں وفات پائی۔انہیں بلکہ تمام مہاجرین بلکہ خودحضورصَلَّی