راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ (مسلم کتاب الزکاۃ،باب فضل النفقۃ علی العیال … الخ، ص۴۹۹، حدیث: ۹۹۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آقائے دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا علمِ غیب
مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی’’نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری ‘‘ میں فرماتے ہیں : حضرتِ سعد کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ کیا اسی مرض میں میری موت مقدر ہے، کیا میں یہیں دفن ہونگا یہ سوال اس لئے کیا تھاکہ یہ چیز ان کو پسند نہ تھی کہ ہجرت کے بعد مکے ہی میں دفن ہوں۔ جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے:’’مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اسی سرزمین میں نہ مروں جہاں سے ہجرت کر چکا ہوں ‘‘حضور دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ایسا نہ ہوگا(بلکہ) تم اس مرض سے شفا پاؤگے اور اسکے بعد زندہ رہوگے اور اعمال صالحہ کرو گے جس سے تمہارا درجہ اور بلند ہوگا،تم سے ایک قوم کو فائدہ پہنچے گا اور ایک کو نقصان پہنچے گا۔‘‘آپ کی صاحبزادی عائشہ سے مروی ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دستِ مبارک پیشانی پر رکھا پھر حضرتِ سعد کے چہرے اور پیٹ پر َملا اور یہ دعا فرمائی :’’اے اللہ ! سعد کو شفا عطا فرمااور انکی ہجرت کو پوری فرما! ‘‘ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ دست مبارک کی ٹھنڈک میں ہمیشہ محسوس کرتا ہوں حتی کہ اس وقت بھی جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ د عا قبول ہوئی اورغیب کی خبر سچی ہوئی، اس واقعے کے بعد حضرتِ سعد 45یا 47سال زندہ رہے، یہ واقعہ 10 سنِ ہجری کا ہے اور ان کا وصال 55سن ہجری یا 57 سن ہجری میں ہوا اللہ عزوجل نے انہیں کے ہاتھ ایران فتح فرمایا جس سے ایرانیوں کو نقصان پہنچا اور مسلمانوں کو نفعِ عظیم پہنچا ۔نیز جب یہ عراق کے والی تھے توکچھ بد نصیب مرتدہوگئے یہ پکڑ کر ان کی خدمت میں پیش کئے گئے انہوں نے ان کو توبہ کا حکم دیا، کچھ نے توبہ کی، انہوں نے دارَین کا خیر حاصل کیا ، کچھ اَڑے رہے جنہیں قتل کرا دیا۔یہ بھی ایک قوم کو نفع پہنچانا اور ایک قوم کو نقصان پہنچا نا ہے۔حَجَّۃُ الْوَداع کے موقع پرحضرتِ سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی صرف ایک ہی صاحبزادی حضرتِ عائشہ تھیں یہ صحابیہ ہیں اس کے بعد اور اولاد ہوئی، حضرتِ سعد کے