مقصود کو پہنچ گئے لیکن میں پیچھے رہ گیا؟ ارشاد فرمایا :’’تمہاری عمر درازہو گی پھر تم جو بھی نیک عمل رضائے الٰہی کے لئے کرو گے تمہیں نیکی ملے گی اور تمہارا درجہ بلند ہوگا لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان اٹھائیں گے۔‘‘پھر حضورنے ان کے لئے دعا فرما ئی آپ کی دعا قبول ہوئی تو ان کا مرض جاتا رہا خوب لمبی عمراور اولادکی کثرت نصیب ہوئی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کا ثواب
اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا اور انکے نان و نَفَقَہ ( یعنی روٹی کپڑے وغیرہ کے خرچ ) کا انتظام کرنا باعثِ اجر وثواب ہے بشرطیکہ نِیَّت یہ ہو کہ ان کا نَفَقَہاللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھ پر فرض کیاہے لہٰذا میں اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہوں ،اسی طرح اولادکے لئے حلال مال چھوڑ جانابھی گناہ نہیں بلکہ اگر مال موجود ہو تو حاجت مند اولاد کے لئے چھوڑ نا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ قریبی رشتہ داروں پر نَفْلی صَدَقات خرچ کرنا بہت بڑی سعادت وباعث ِمغفرت ہے ۔ اس ضمن میں 5 فرامین ِمصطفیٰ ملاحظہ فرمائیے:
(1) رشتہ دار پر کئے جانیوالے صَدَقے کا ثواب دوگنا کردیا جاتاہے۔ (معجم کبیر، ۸ / ۲۰۶، حدیث: ۷۸۳۴)
(2) مسکین پر خرچ کرنے میں ایک صَدَقہ جبکہ رشتہ دار پر خرچ کرنے میں دو صدقے ہیں ،صَدَقہ اور صلہ رحمی۔
(ابن خزیمۃ، ۴/۷۷،حدیث: ۲۳۸۵)
(3) جوثواب کی نِیَّت سے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرے تو یہ بھی صَدَقہ ہے ۔(مسلم ،کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین …الخ، ص ۵۰۲، حدیث: ۱۰۰۲)
(4) بندے کے میزان میں سب سے پہلے اہل وعیال پر خرچ کئے گئے مال کو رکھاجائے گا۔ (معجم الاوسط، ۴/ ۳۲۸، حدیث: ۶۱۳۵)
(5) سب سے افضل دینا ر وہ ہے جسے بندہ اپنے گھروالوں پر خرچ کرے ، راہ ِ خدامیں اپنے جانور پر خرچ کرے اور اللہکی