Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
85 - 627
دوسرے مقام پرارشادہوتا ہے:
عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
 (پ۱۱، التوبۃ :۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
 	بیماروں کی عِیادت کرنا ہمارے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتِ مبارکہ ہے جب بھی آپ کاکوئی صحابی بیمارہو تا آپ عِیادت کے لئے تشریف لے جاتے اور مقبول دعاؤں سے نوازتے۔ 
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام
	حَجَّۃُالوَدَ اعکے موقع پرجب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے پیارے صحابی حضرتِ سَیِّدُنا سَعد بن اَبی وقَّاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیماری کی خبر ملی تو عِیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔انہیں بہت شدت کا درد ہورہا تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے پاس دیکھ کراپنا حال بیان کیا پھر عرض کی : ’’یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بہت مال دیا ہے ،ایک لڑکی کے علاوہ میری کوئی اولاد نہیں ، میں چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں اپنا دوتہائی مال خرچ کردوں ؟‘‘ارشاد فرمایا:’’ نہیں ‘‘ انہوں نے نصف مال صَدَقہ کرنے کی اجازت چاہی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر منع فرمادیا،پھر تہائی مال کی اجازت چاہی تو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے اور تمہارا اپنے اہل و عیال کو مالدار چھوڑنا بہتر ہے اس سے کہ انہیں مفلس چھوڑدو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں ،ایسانہیں کہ اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے سے ثواب نہیں ملتا بلکہ اچھی نِیَّت سے اگر تم اپنی زوجہ کو کھانا کھلاؤ اور لباس پہناؤ تو اس کا بھی ثواب ہے۔ پھر انہوں نے عرض کی: میرے جو ساتھی فوت ہوگئے وہ تو اپنی منزل