کوئی چیز ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی ہو اور مستحب یہ ہے کہ وصیت جلدی لکھ لے اور اپنی تندرستی میں لکھے اور کسی کو گواہ بھی بنا لے ۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الوصیۃ،۶ /۷۴، الجزء الحادی عشر )
وصیت تہائی مال میں جاری ہوگی
علامہ بَدْرُالدِّیْن مَحْمُوْد بِنْ اَحْمَد عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِیمیں حضرتِ سَیِّدُنا سَعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ والی حدیث کے تحت فرماتے ہیں : جمہور فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس حدیثِ پاک کو مقدارِ وصیت کے بارے میں اصل قرار دیا ہے اور اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہے کہ وصیت ثُلُث(یعنی تہائی 1/3) مال سے مُتَجَاوِز (زیادہ) نہیں ہونی چاہیے ، علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکے نزدیک ثُلُث ( تہائی مال) سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں بلکہ مستحب یہ ہے کہ ثُلُت مال سے کم وصیت کی جائے ۔(عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب رثاء النبی سعد بن خولۃ، ۶/ ۱۲۴،تحت الحدیث:۱۲۹۵)
بہارِ شریعت میں ہے:’’ادائیگیٔ قرض کے بعد وصیت کا نمبر آتا ہے۔ قرض کے بعد جو مال بچا ہو اس کے تہائی سے وصیتیں پوری کی جائیں گی۔ ہاں اگر سب وُرَثہ بالغ ہوں اور سب کے سب تہائی مال سے زائد سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔‘‘ (بہارِ شریعت، ۳/۱۱۱۱، حصہ۲۰ )
رَء ُوْفٌ رّحیم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مخلوق میں سب سے زیادہ بااَخلاق اورمومنین پر سب سے زیادہ رء وف رحیم ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾ (پ۲۹، القلم :۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک تمہاری خوبو (خُلق) بڑی شان کی ہے ۔