وصیت کی اقسام
علامہ محمد اَمِیْن اِبنِ عَابِدِیْن شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فتاوی شامی میں فرماتے ہیں : وصیت کی چار اقسام ہیں :
(1)واجب: فرائض و واجبات میں سے جن چیزوں کو ادا نہ کرسکا ان کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے مثلاً زکوٰۃ ادا نہیں کی یا حج نہیں کیا تو ان کے متعلق وصیت کرے (یا اس نے نمازیں اور روزے چھوڑدئیے تھے اور ان کی قضا نہیں کی تھی ان کے بارے میں وصیت کرے)یا مالی کفارے ادا نہیں کئے تھے ان کے لئے وصیت کرے اسی طرح بندوں کے جو حقوق ادا نہیں کر سکا ان کے متعلق وصیت کرے مثلاً کسی کا قرض دینا ہے جس کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں ، کسی کی امانت دینی ہے یاکسی کی کوئی چیز غصب کرلی تھی اس کو واپس کرنا ہے اس قسم کی وصیت کرنا واجب ہے ۔
(2)مستحب: مدرسوں ، مساجد، علمائے کرام ، دینی طلبہ، غریب قرابت داروں اور دیگر امورِ خیر میں خرچ کرنے کی وصیت کرنا مستحب ہے۔
(3) مباح : اپنے رشتہ داروں اور غیروں میں سے امیروں کے لئے وصیت کرنا مباح ہے ۔
(4)مکروہ : فاسق و فاجر لوگوں کے لئے وصیت کرنا مکروہ ہے ۔ (رد المحتار، ۱۰/۳۵۴، ملخصاً)
بہار شریعت میں ہے کہ: جس کے پاس تھوڑا مال ہو اس کے لئے افضل وصیت نہ کرنا ہے ۔
(بہار شریعت، ۳/۹۳۸، حصہ ۱۹)
وصیت لکھنا مستحب ہے
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : وصیت کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے لیکن ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وصیت مستحب ہے واجب نہیں۔ لیکن اگر انسان پر کسی کا قرض ہو یا کسی کا حق ہو یا امانت ہو تو اس کی وصیت کرنا لازم ہے۔ اگر انسان کے پاس وصیت کے لائق