مالدار شخص ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ، کیا میں دوتہائی مال صَدَقہ کردوں ؟فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!نصف مال صَدَقہ کر دوں ؟ فرمایا:نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی ؟فرمایا: ایک تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی زیادہ ہے،(سنو!)تمہارا اپنے وارثوں کومالدار چھوڑ جاناان کو مفلس چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کرتے پھریں ، بے شک تم جوکچھ بھی اللہعَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے خرچ کرو گے اس کاثواب پاؤ گے یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ،اس کا بھی اجر ہے۔ فرماتے ہیں :میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا میں اپنے اصحاب سے (ہجرت کے معاملہ )میں پیچھے چھوڑدیا جاؤنگا‘‘؟ فرمایا:’’ تم ہرگز پیچھے نہ چھوڑے جاؤگے کیونکہ تم اللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارا مرتبہ بڑھے گا اور پھر تم یقینا لمبی عمر دئیے جاؤگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا جب کہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ (پھرحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ دعا کی): یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں ان کی حاجت سے نہ پھیر! البتہ سعد بن خولہ کی حالت قابلِ رحم ہے۔ نبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاحضرت سَعَدبن خَولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لئے اظہارِ افسوس کر نا اس لئے تھاکہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں ہی فوت ہوئے ۔
وصیت سے کیا مراد ہے؟
علامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں وصیت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ تَمْلِیْکُ مُضَافٍ اِلٰی مَا بَعْدَ الْمَوْتِ‘‘ یعنی کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال کا مالک بنانا ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الوصایا، ۱۰/۳ )
بہارِ شریعت میں ہے :’’بطورِاحسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنانا وصیت کہلاتا ہے۔ وصیّت کرنا مستحب ہے جب کہ اس پر حقوقُ اللہکی ادائیگی باقی نہ ہو،اگر اس پر حقوق اللہکی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یااس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیّت کرنا واجب ہے۔‘‘ (ملخصاًبہارشریعت، ۳/۹۳۶، حصہ۱۹ )