ذَرّے ذَرّے پر اَجْر ہے
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کسی مسکین نے کھانے کا سُوال کیا۔اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے سامنے انگور کے کچھ دانے رکھے ہوئے تھے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کسی سے فرمایا کہ ’’ان میں سے ایک دانہ اٹھا کرمسکین کو دے دو!‘‘یہ سن کر اسے تعجب ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا: تم حیران کیوں ہورہے ہو؟ یہ تو دیکھو کہ اس دانے میں کتنے ذرَّات ہیں۔(موطاامام مالک، کتاب الصدقۃ، باب الترغیب فی الصدقۃ،۲/۴۷۴،حدیث:۱۹۳۰)
اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مال ودولت کی نہیں بلکہ اِخلاص کی قَدر وقیمت ہے بغیر اِخلاص کے پہاڑوں کے برابر سونا بھی نا مقبول جبکہ اِخلاص سے دیا ہو ایک دانہ بھی قبول بلکہ بعض اوقات اِخلاص سے دیا گیا تھوڑا سا صَدَقہ بھی نجات ومغفرت کا سبب بن جاتا ہے۔ چنانچہ،
ایک روٹی کا ثواب
حضرتِسَیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے منقول ہے: ایک راہبعَبْدُا للّٰہ نامی60سال تک عبادت میں مشغول رہا۔ پھرایک عورت کے فتنے میں مبتلا ہو کر چھ دن تک اس کے ساتھ بدکاری میں مُبتَلا رہا،پھراسے اپنے گناہ پر نَدامت ہوئی تو دوڑتاہو ا مسجد کی طر ف آیا، وہاں تین بھوکے شخصوں کو پایا تو ایک روٹی ان پر صَدَقہ کر دی اور اس کا انتقال ہوگیا جب اس کے اعمال کا وزن ہوا تو ایک پلڑے میں ساٹھ سال کی عبادت اور دوسرے پلڑے میں چھ دن کے گناہ رکھے گئے توگناہ عبادت پر غالب آگئے۔لیکن جب صَدَقہ کی ہوئی روٹی رکھی گئی تو وہ ان گناہوں پر غالب آگئی۔ (شعب الإیمان، باب فی الزکاۃ التی جعلہا اللہ، ۳/۲۶۲، حدیث:۳۴۸۸)
مومن کا صَدَقہ اس کے لئے سایہ ہو گا
حضرتِ سَیِّدُنا یزید بن ابی حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَُ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا مَرثَد بن عَبدُاللہ مُزَنِی