Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
78 - 627
(3)صَدَقہ قبر کی گرمی کو دور کرتا ہے
	حضرتِ سَیِّدُنا عُقْبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المُبَلِّغِین،رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیُنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:بیشک کسی شخص کا صَدَقہ اس کی قبرسے گرمی کو دورکردیتا ہے اور قیامت کے دن مومن اپنے صَدَقے کے سائے میں ہوگا۔ 					       (معجم کبیر، ۱۷/۲۸۶، حدیث: ۷۸۸)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ہمارا پاک پروَردگارعَزَّوَجَلَّ صَدَقہ و خیرات کرنے پر کیسا عظیم ثواب عطا فرماتا ہے۔اس کے کرم کی انتہا نہیں وہ تو صرف نِیَّت پر بھی بہت زیادہ اَجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔
(4)دنیا میں چار طرح کے لوگ ہیں 
	حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں تم اسے یاد کرلو۔دنیا میں چار طرح کے لوگ ہیں ،ایک وہ بندہ جسے اللہعَزَّوَجَلَّنے مال اورعِلم عطافرمایااور وہ اس معاملے میں اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہے اور صلہ رحمی کرتاہے اور اپنے مال میں اللہعَزَّوَجَلَّ کا حق تسلیم کرتاہے تو یہ بندہ سب سے افضل مقام پر ہے،دوسراو ہ شخص جسے اللہعَزَّوَجَلَّنے علم عطا فرمایا،مال نہیں دیا مگر اس کی نِیَّت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر اللہعَزَّوَجَلَّمجھے بھی مال عطا فرماتاتو میں فلاں کی طرح عمل کرتا تو اسے اس کی نِیَّت کے مطابق ثواب دیا جائے گا اوران دونوں کا ثواب برابر ہے،تیسراوہ ہے جسے اللہعَزَّوَجَلَّنے مال عطافرمایا اور علم عطا نہیں فرمایا تو وہ اپنا مال علم کے بغیر خرچ کرتاہے اور اس معاملے میں اپنے ربعَزَّوَجَلَّسے نہیں ڈرتا،نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اپنے مال میں اللہعَزَّوَجَلَّ  کاحق تسلیم کرتاہے تو وہ خبیث ترین درجے میں ہے اور چوتھا وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نہ تو مال عطا فرمایا اور نہ ہی علم عطا فرمایا تو وہ کہتاہے اگر میرے پاس مال ہو تا تو میں بھی فلاں کی طرح عمل کرتاتوان دونوں کاگناہ برابرہے۔ (ترمذی،کتاب الزہد،باب مَا جَاء َ مَثَلُ الدُّنْیَا مَثَلُ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، ۴/۱۴۵، حدیث:۲۳۳۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد