َرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اہلِ مصر میں سب سے پہلے مسجد کی طرف جاتے تھے۔میں نے کبھی انہیں مسجد میں صَدَقہ دئیے بغیر داخل ہوتے نہیں دیکھا۔ان کی آستین میں سِکّے ہوتے یا روٹی یا پھر گند م کے دانے۔ایک مرتبہ میں نے انہیں آستین میں پیاز لئے ہوئے دیکھا تو کہا:اے ابو الخیر!اس سے تو آپ کے کپڑے بدبو دار ہوجائیں گے۔فرمایا :اس کے علاوہ میں نے اپنے گھر میں کوئی اور چیز صَدَقہ کرنے کے لئے نہ پائی،لہٰذااسے ہی لے آیا۔مجھے سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ ذی وقار پہنچا ہے کہ روزِ قیامت مؤمن کا صَدَقہ اس کیلئے سایہ ہوگا۔
(صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الزکاۃ، باب اظلال الصدقۃ…الخ، ۴/۹۵، حدیث:۲۴۳۲)
مَدَنی گلدستہ
’’ اَہلِ بیت‘‘رِضْوَانُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے 6حروف کی نسبت سے اس
حدیث ِمبارَکہ اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)ضرورت مند بیٹا باپ کے نفلی صَدَقے کی رقم لے سکتا ہے ۔
(2) صَدَقۂ واجبہ اپنے بیٹے کو نہیں دیا جاسکتا اگر دے دیا تو ادا نہ ہوگا۔
(3)باپ اگر اپنے حاجت مند بیٹے کو نفلی صَدَقے کی رقم دیدے اسے واپس نہیں لے سکتا ۔ (عمدۃ القاری،۶/ ۳۹۵)
(4)اگر کوئی نفلی صَدَقے کی نِیَّت سے کسی ذی رحم کو رقم دے تو اسکا صَدَقہ ادا ہوجائے گا بلکہ ذی رحم محتاج ہو تو پہلے اسے ہی دینے کا حکم ہے۔
(5) اگر باپ نے نفلی صَدَقہ دیا اور وہ بیٹے نے لے لیا اور باپ کو معلوم نہیں کہ لینے والا اسکا بیٹا ہے تب بھی صَدَقہ ادا ہوجائیگا۔
(6) صحابۂ کرام عَلَیْہُمُ الرِضْوَان کو جب بھی کوئی مشکل ا ٓتی تو وہ بارگاہِ رسالت میں حاضرہو کر اس کا حل چاہتے اور ان کی مشکلیں حل ہوجاتی تھیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد