Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
77 - 627
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو!مرنے سے پہلیاللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرلو اور مَشْغُولِیَتسے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو اور اللہعَزَّوَجَلَّ کاکثرت سے ذکر کرنے اورپوشیدہ اور ظاہری طور پر کثر ت سے صَدَقہ کے ذریعے اللہعَزَّوَجَلَّسے اپنارابطہ جوڑلوتوتمہیں رِزق دیا جائے گا،تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری حالت درست کی جائے گی۔ (ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب فی فرض الجمعۃ، ۲/۵، حدیث:۱۰۸۱)
(2)بادَل سے غیبی آواز
	حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ،صاحبِ معطر پسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ایک شخص کسی ویرانے سے گزررہا تھا۔اچانک اس نے بادل میں سے یہ غیبی آوازسنی’’فلاں کے باغ کوسیراب کرو‘‘ چنانچہ ، بادل ایک پتھریلی زمین پربرسااورپانی ایک نالے میں جمع ہوکر ایک سمت بہنے لگا،وہ شخص بھی پانی کے ساتھ چلتارہا۔پانی ایک باغ میں داخل ہوگیا۔اس شخص نے وہاں موجود کسان سے اس کا نام پوچھا تو اس نے وہی نام بتایا جو بادل سے آنے والی آواز سے سنا تھا۔کسان نے نام پوچھنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا:جس بادل سے یہ بارش ہوئی ہے اس سے غیبی آواز آرہی تھی کہ’’فلاں کے باغ کو سیراب کرو!‘‘تم اپنے باغ میں ایسا کونسا عمل کرتے ہو(کہ بادل کو اس کی سیرابی کاحکم ہوا)؟کسان نے کہا: جب تو نے یہ بات پوچھ ہی لی ہے تو سن!میں اس باغ سے حاصل ہونے والی فصل کاایک حصہ صَدَقہ کردیتا ہوں ، ایک اپنے لئے اوراپنے اہل و عیال کیلئے رکھتا ہوں اورایک حصے کو اسی زمین میں کاشت کرلیتاہوں۔
(مسلم،کتاب الزہد والرقائق،باب الصدقۃ فی المساکین، ص۱۵۹۳، حدیث:۲۹۸۴)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد