حضرتِ سَیِّدُنا یَزِیْد بِنْ اَخْنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے وکیل کو مُطْلَقاختیار دیا کہ جسے چاہے صدقہ دیدے، چونکہ اس اِطلاق میں اُنکا بیٹا بھی شامل تھا اس لئے اُس (وکیل) کا عمل نافذ ہو گیا۔ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہواکہ باپ نے اپنے بیٹے کو صدقہ ،صِلہ یا ہِبَہ کے طور پر جو مال وغیرہ دیا تو وہ اسے واپس نہیں لے سکتا ، یہی امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا قول ہے ۔ تمام علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صدقۂ وا جبہ اگر باپ سے اس کے بیٹے نے لے لیا تو وہ ہر گز ادا نہ ہوگا،ہاں صدقہ نافلہ ادا ہو جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کا چرچا کرنا جائز ہے اسی طرح یہ بھی پتہ چلا کہ صدقہ کا وکیل بنانا جائز ہے خاص طور پر جب کہ صدقہ نفلی ہو کیونکہ اس صورت میں پوشیدگی ( عمل کو چھپانا ) زیادہ ہے ، صدقہ کرنے والے کو اس کی نیت کا اجر ملے گا خواہ اس کا دیا ہوا صدقہ مستحق تک پہنچے یا نہ پہنچے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ، باب إذا تصدق علی ابنہ وہو لا یشعر، ۶/ ۳۹۵، تحت الحدیث:۱۴۲۲، ملخصا)
نیکی کی نیت پرثواب ضرور ملتا ہے
حضرتِ سَیِّدُنا یَزِیْد بِنْ اَخْنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اگرچہ اپنے صاحبزادے کو صَدَقہ دینے کی نِیَّت نہ کی تھی لیکن وہ حاجت مند تھے،لہٰذاحضرتِ سَیِّدُنا یَزِیْد بِنْ اَخْنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو صَدَقے کی نِیَّت پر ثواب مل گیا اور صَدَقہ بھی ادا ہو گیا اور آپکے صاحبزادے اس رقم کے مالک ہوگئے کیونکہ یہ نفلی صَدَقہ تھاجواپنی حاجت منداولاداوردیگر قریبی رشہ داروں کودیناجائزبلکہ افضل ہے۔بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنراہِ خدا میں خوب صَدَقہ وخیرات کیا کرتے تھے،صَدَقہ خیرات کی بہت زیادہ فضیلت ہے،اس سے بَلائیں ٹَلتی ہیں ، رزق وعمر میں برکت ہوتی ہے،آخرت کی تیاری کی رغبت ملتی ہے،دل کا زَنگ دور ہوتاہے، خدائے بُزُرگ وبَرتر کی خاص نظرِ کرم ہوتی ہے اور اس کے علاوہ بھی بے شمار فضیلتیں حاصل ہوتی ہیں۔
’’صَدَقَہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے 4روایات
(1)رِزق ملے مصیبتیں ٹَلیں
حضرتِ سَیِّدُنا جابِر بن عبدُاللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نَبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ