حدیث نمبر:5 سردارِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا فیصلہ
عَنْ اَبِیْ یَزِیْدَ مَعْنِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ الْاخْنَسِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَھُوَوَاَبُوْہٗ وَجَدُّہٗ صَحَابِیُّوْنَ، قَالَ: کَانَ اَبِیْ، یَزِیدُ اَخْرَجَ دَنَانِیرَ یَتَصَدَّقُ بِہَا فَوَضَعَہَا عِنْدَ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَجِئْتُ فَاَخَذْ تُہَا فَاَتَیْتُہٗ بِہَا، فَقَالَ: وَاللہِ! مَا اِیَّاکَ اَرَدْتُ ، فَخَاصَمْتُہٗ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:’’لَکَ مَا نَوَیْتَ یَا یَزِیدُ! وَلَکَ مَا اَخَذْتَ یَا مَعْنُ۔‘‘رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ۔
(بخاری، کتاب الزکاۃ، باب إذا تصدق علی ابنہ وہو لا یشعر، ۱/۴۸۰، حدیث:۱۴۲۲)
ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا اَبُو یَزِیْد مَعْن بِنْ یَزِیْد بِنْ اَخْنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْیہ خود بھی اوران کے والد ودادا بھی صحابی تھے فرماتے ہیں :میرے والد یزید نے کچھ دینار صَدَقہ کیلئے نکالے اور مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ آئے،میں آیا تومیں نے وہ دینار لئے اور اپنے والد کے پاس آگیا،انہوں نے فرمایا:اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم!میں نے تجھے دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا،پھر میں اس معاملے کو بارگاہِ ِرِسالت میں لے گیا،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے یزید!تجھے تیری نِیَّت کا ثواب ملے گا اور اے معن!جو تو نے لیا وہ تیرا ہے۔‘‘
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِیمیں حدیث پاک کے اس حصے ’’لَکَ مَا نَوَیْتَ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : (اے یزید بن اخنس )تم نے محتاج کو صدقہ دینے کی نیت کی تھی چونکہ تمہارا بیٹا محتاج تھا پس اس نے تمہارا مال لے لیا۔اس طرح تمہارا صدقہ ایک محتاج تک پہنچ گیا اگرچہ تمہارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تمہارا بیٹا اسے لے لے گا۔ ( لیکن تمہیں تمہاری نیت کا ثواب ملے گا)(فتح الباری، کتاب الزکاۃ، باب إذا تصدق علی ابنہ وہو لا یشعر، ۴/۲۵۳، تحت الحدیث:۱۴۲۲)
اپنی اولاد کو ہبہ کیاہوا مال واپس نہیں لیا جاسکتا
عمدۃُ القاری شرح بخاری میں ہے: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مطلق اپنے اِطلاق پہ رہے گا، اس لئے کہ