نے اسی لئے آپ کو نماز کیلئے جگادیا ہے تاکہ آپ کا ثواب بڑھنے نہ پائے کیونکہ میں تو مسلمانوں کا حاسد ہوں اور اسی جذبۂ حسد کی وجہ سے میں نے آپ کو نماز کیلئے جگا دیا تاکہ آپ کو زیادہ ثواب نہ مل سکے میں تو مسلمانوں کا دشمن ہوں اور مَکرو کینہ ہی میرا کام ہے۔‘‘( مثنوی شریف،دفتر دوم بیدار کردن ابلیس …الخ، ۱/۲۶۳)
شیطان مردودمسلمانوں کا ایسابڑا دشمن ہے کہ اسے مسلمانوں کی نیکیوں میں اضافہ ہر گز ہر گز گوارا نہیں اولاًتو اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ نیکی کرنے ہی نہ دے،لیکن جب وہ اپنے اس مذموم ارادے میں کامیاب نہیں ہوتا تو بڑی نیکیوں سے چھوٹی نیکی کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے،اس ملعون کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک مکر ہے۔اس کے مکر وفریب سے بچنے کا واحد ذریعہ اخلاص و دعا ہے۔اللہعَزَّوَجَلَّ ہمیں شیطان کے مکر وفریب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مدنی گلدستہ
’’جہاد ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اور اس
کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1)اگر کسی نیک کام کی نِیَّت کر لی جائے اور کسی مجبوری سے وہ کام نہ ہوسکے تواللہعَزَّوَجَلَّاس عمل کا ثواب عطا فرما دیتا ہے۔سفر یا بیماری کی وجہ سے چھوٹنے والے اعمال کا ثواب عطا کر دیا جاتا ہے۔
(2)باعمل مریض کوشفایابی کی صورت میں گناہوں سے پاکی اور وفات کی صورت میں مغفرت ورحمت کی دولت نصیب ہوتی ہے۔
(3)نیک عمل کے چھوٹ جانے پر جتنا زیادہ غم ہوتاہے اتنا ہی زیادہ اجر عطا کیا جاتا ہے۔
(4)شیطان کے خطر ناک حملوں سے بچنے کا سب سے طاقتورہتھیار دعا واخلاص ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد