Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
73 - 627
 فضیلت دنیا میں مالِ غنیمت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی مدد کرنا ہے اور آخرت میں یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجاہدین کے درجات جہاد سے رہ جانے والوں کے درجات سے بڑھادیئے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجہاد، الفصل الاول، ۷/۳۸۰، تحت الحدیث:۳۸۱۵)
 	اس حدیث پاک سے اچھی نِیَّت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجہاد میں جانے کی نِیَّت رکھتے تھے لیکن مجبوری کی وجہ سے نہ جا سکے انہیں اس سعادت سے محرومی پر بہت غم ہوا۔اللہعَزَّوَجَلَّ کو ان کی نِیَّت کا اخلاص اور جہاد چھوٹنے پر غمگین ہونا ایسا پسند آیا کہ انہیں بھی جہاد کا ثواب عطا فرما دیا۔ اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبانی انہیں جہاد کے ثواب کی خوشخبری سنائی۔ ہماراپاک پَروَردگارکتناکریم ہے کہ اگراس کابندہ کسی نیک کام کی نِیَّت کرلے لیکن کسی مجبوری سے اس پر عمل پیرانہ ہوسکے تو اسے نِیَّت کی وجہ سے عمل کا ثواب مل جاتا ہے۔پھر اس عمل کے چھوٹنے کی وجہ سے جتنا زیادہ افسوس ومَلال ہو اتنا ہی اجر بھی بڑھا دیا جاتا ہے ۔چنانچہ، منقول ہے کہ
شیطان نے نماز کے لیے جگایا!
	ایک مرتبہ  حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قیام گاہ میں سورہے تھے۔ اچانک کسی نے بیدار کردیا،جب آپ نے آنکھ کھول کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا،آپ نے فرمایا:’’ارے تو کون ہے؟اور تیرانام کیا ہے؟‘‘کہا:’’مجھ بدنصیب کا نام ’’اِبلیس‘‘ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حیران ہو کر فرمایا،اِبلیس کا کام تو مومن کوسُلا کر اس کی نماز قضا کرادینا ہے،اگرتوواقعی اِبلیس ہے تو مجھے نمازکیلئے کیوں جگایا؟یہ سن کر شیطان نے دانت پیس کر کہا:’’اے فلاں !میں نے آپ کو اس لیے بیدار کردیا کہ اگر اس وقت آپ کی نماز فوت ہوجاتی تو آپ افسوس کرتے ہوئے اور دردِ دل سے روتے ہوئے آہ و فُغَاں کرتے تو نماز چھوٹنے کے غم میں آپ کا افسوس اور آپ کی بے قراری اور بارگاہِ باری میں آپ کی گِر یَہ وزاری (رونا،پیٹنا) ثواب میں دو سو رکعت نمازوں سے بھی بڑھ جاتی،تو میں