Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
72 - 627
مقام تبوک پر ایک قلعہ بھی ہو جس میں چشمہ بھی ہو ) ۔ غزوۂ تبوک سخت قحط کے دنوں میں ہوا۔ طویل سفر، ہواگرم، سواریاں کم، کھانے پینے کی تکلیف،دشمن کی تعداد بہت زیادہ۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو بڑی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کو ’’جَیْشُ الْعُسْرَۃ‘‘ (تنگ دستی کا لشکر)بھی کہتے ہیں اورچونکہ منافقوں کواس غزوہ میں بڑی شرمندگی اور شرمساری اٹھانی پڑی تھی۔ اس وجہ سے اس کا ایک نام’’غزوۂ فاضِحَہ‘‘(کفار کورُسواکرنے والا غزوہ)بھی ہے ۔ اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس غزوہ کے لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ماہ رجب   ۹ھ؁ جمعرات کے دن روانہ ہوئے۔(ملخص ازشرح المواہب،۴/۶۵،۶۶) منافقین قسمیں کھاکر جھوٹے عذر اور بہانے بنا کر وہیں رُک گئے اور مخلص مسلمانوں میں سے حضرت کَعْب بِنْ مَالِک، ہِلال بِنْ اُمَیَّہ، مُرَارَہ بِنْ رَبِیْع، اَبُوخَیْثَمَہ، اَبُوذَر غِفَارِی رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن بھی پیچھے رہ گئے۔ اِن میں سے اَبُوخَیْثَمَہ اور اَبُوذَر غِفَارِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  تو بعد میں جا کر شریکِ جہاد ہو گئے لیکن بقیہ تین حضرات جہاد میں شریک نہ ہو سکے۔ (ملخص ا زشرح ا لمواھب، ۴،/۷۸-۸۱۔۸۲)
 جہاد کی نِیَّتِ پر بھی ثواب مِلا 
 	علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نیکی (بھلائی) کے کاموں میں نیت کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اگر کوئی شخص غزوہ میں شرکت کی نیت کرے یا کسی اور نیک کام کی نیت کرے پھر اسے کوئی ایسا عُذْر لاحق ہو جائے جس کی وجہ سے وہ نیک کام نہ کرسکے تو اسے اس کی نیت کا ثواب ملے گا اور وہ جتنا زیادہ اس نیکی کے فوت ہونے کا افسوس کرے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش میں وہ نیکی کرسکتا تو اس کا ثواب بھی اتنا بڑھتا جائے گا۔ 
(شرح  مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب ثواب من حبسہ عن الغزو مرض او عذر آخر، ۷/۵۷، الجزء الثالث عشر)
 	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مِرْقَاۃ شرحِ مشکٰوۃ میں  فرماتے ہیں کہ جو لوگ عُذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوسکے وہ مجاہدین کے ساتھ اجر میں تو شریک ہیں لیکن مجاہدین کو ان پر فضیلت حاصل ہے وہ