Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
71 - 627
حدیث نمبر:4            بغیرجہاد کے جہاد کا ثواب
	عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللہِ الْاَنْصَارِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَال:کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فِیْ غَزَاۃٍ  فَقَالَ: ’’اِنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ لَرِجَالًامَاسِرْتُمْ مَسِیرًا، وَلَاقَطَعْتُمْ وَادِیًااِلَّا کَانُوْامَعَکُمْ حَبَسَہُمُ الْمَرَضُ۔‘‘وَفِیْ رِوَایَۃٍِ :’’اِلَّا شَرَکُوْکُمْ فِی الْاَجْرِ‘‘رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ وَرَاوَہُ الْبُخَارِیْ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَال:’’اِنَّ اَقْوَامًاخَلْفَنَابِالْمَدِیْنَۃِ مَا سَلَکْنَا شِعْبًا وَّلَاوَادِیًااِلَّاوَہُمْ مَعَنَا،حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ۔‘‘
   ( مسلم،کتاب الامارۃ،باب ثواب من حبسہ عن الغزومرض اوعذرآخر، ص۱۰۵۸،حدیث:۱۹۱۱،  بِتَغَیُّرٍ قَلِیْلٍ)
    (بخاری،کتاب المغازی،باب نزول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحجر ، ۳/۱۵۰، حدیث:۴۴۲۳، بِتَغَیُّرٍ قَلِیْلٍ)
	ترجمہ:’’حضرتِ سَیِّدُنا ابو عَبْد اللہ جابِر بن عبد اللہ اَنصَارِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک جنگ میں ہم رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے کہ آپ نے فرمایا:’’بے شک!مَدِینَۂ مُنَوَّرَہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفرکیا یا کسی بھی وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ تھے انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔‘‘ایک روایت میں ہے:’’مگر وہ ثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔‘‘ (مسلم)امام بخاری نے اس حدیث کوحضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں :ہم رسولِ کریم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے آپ نے فرمایا:’’ہمارے پیچھے مدینے میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ ہم جس گھاٹی اور وادی کو عبور کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عُذر(مجبوری)نے روک رکھا ہے۔‘‘ 
’’غَزْوَۂِ تَبُوْک ‘‘
           ’’ تَبُوک‘‘مَدِینَۂ مُنَوََّرَہاور ملک ِشام کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ ’’تبوک ‘‘ ایک قلعہ کا نام ہے اور بعض کا قول ہے کہ ’’تبوک ‘‘ ایک چشمے کا نام ہے ۔ ممکن ہے یہ سب باتیں موجود ہوں ( اسطرح کہ