(3) مومنِ کامِل ہمیشہ حق بات کرتا ہے چاہے عام لوگوں میں ہو یا بادشاہوں کے دربار میں۔جیسا کہ صحابیِ رسول حضرت سَیِّدُناجعفررَضِیََ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُنے نجاشی بادشاہ کے سامنے بِلا خوف وخطرحق وسچ بات بیان کی۔
(4)حضرت سَیِّدُنانَجاشی رَضِیََ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن وہ حضو رصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت ِ بابرکت سے فیضیاب نہ ہو سکے تھے۔
(5)جو اللہعَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں ہو پوری دنیا بھی مل کر اس کا کچھ نہیں بِگاڑ سکتی۔کفار ِمکہ نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شہید کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کازورلگایا مگر آپ کا ایک بال بھی بِیکا نہ کرسکے۔
فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
(6)اللہعَزَّوَجَلَّبہت زیادہ کریم ہے وہ اپنے بَرگُزِیدَہ بندوں (بَرگُ۔زِی۔دَہ۔پسندیدہ بندوں )کو بہت زیادہ اختیارات عطافرماتا ہے،مَلَک وفَلَک،اَرض وسما،بَحر وبَر پر ان کی حکومت ہوتی ہے۔دنیا کی ہر چیز ان کے تابع کردی جاتی ہے۔نَبیِّ آخرُ الزَّماں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا سے حضرت سُراقَہ کا گھوڑازمین میں دھنسا اور باہر نکلا،آپ کے لعاب دہن سے صدیق اکبر کامَسمُوم(زَہرزَدہ)پاؤں فوراًدرست ہوگیا،بکری کے خشک تھن دودھ سے ایسے بھرے کہ جب تک وہ زندہ رہی کبھی اس کا دودھ ختم نہ ہوا۔
(7)تنگی کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔صحابۂ کرامعَلَیْھِمُ الرِّضْوَاندینِ اسلام کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دے کر بھی ہر حال میں صابر وشاکر رہے تواللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں دنیا وآخرت میں سُرخرُوئی عطا فرمائی ،جن علاقوں سے انہیں نکالا گیا انہیں علاقوں میں فاتح بن کر داخل ہوئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد