Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
69 - 627
      اورپھر :      
خُلد میں ہو گا ہمارا داخلہ اس شان سے
یارسولَ اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
 (3)وہ ہجرت جو مکۂ مکرمہ سے شام کی طرف ہوگی 
	قربِ قیامت میں فتنوں کے ظہور سے قبل ایک ہجرت حَرَمَیْن شَرِیْفَیْنسے ملکِ’’شام‘‘کی جانب ہوگی جس کا اجمالی واقعہ کچھ یوں ہے:قیامت قائم ہونے سے قبل جب دنیا میں سب جگہ کُفر کاتَسَلُّط ہوگا اس وقت تمام اَبدال بلکہ تمام اَولیا سب جگہ سے سِمٹ کر حَرَمَیْن شَرِیْفَیْن کو ہجرت کرجائیں گے (کیونکہ) صرف وہیں اسلام ہوگا اور ساری زمین کفرِستان ہو جائے گی۔رمضان شریف کا مہینہ ہوگا اَبدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہونگے اور حضرت اِمام مَہدی بھی وہاں ہونگے اَولیا انہیں پہچانیں گے ان سے بَیْعَت کی درخواست کریں گے وہ انکار کریں گے،دَفعۃً غیب سے  ایک آواز آئے گی:’’ھَذَاخَلِیْفَۃُ اللہِ الْمَہْدِیْ فَاسْمَعُوْالَہٗ وَاَطِیْعُوْہُ۔‘‘ترجمہ:’’یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خلیفہ مَہدی ہے،اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو۔‘‘چنانچہ، تمام لوگ ان کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کرینگے ،وہاں سے سب کواپنے ہمراہ لے کر  ملکِ ’’شام‘‘ کو تشریف لے جائیں گے۔(بہار شریعت، ۱ /۱۲۴، حصہ ۱)
    مدنی گلدستہ 
’’فیضِ حد یث‘‘کے7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7 مدنی پھول
(1)مَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاتا قیامت کبھی دارُالحرب نہ بنے گا اور نہ کبھی یہاں سے ہجرت فرض ہوگی۔
(2)دَارُ الْحَرب سے دَارُ الْاِسْلام کی طرف ہجرت فرض ہے ، ہاں اگر حقیقۃً مجبور ہو تو معذور ہے،دار الاسلام سے ہجرت کا حکم نہیں ،اگر کسی جگہ کسی عذرِ خاص کے سبب کوئی شخص اقامتِ فرائض سے مجبور ہو تو اسے اس جگہ کا بدلنا واجب ہے اس مکان میں معذوری ہو تو مکان بدلے محلہ میں معذوری ہو تو دوسرے محلہ چلا جائے۔ (فتاوی رضویہ، مخرجہ، ۱۴ / ۱۰۲ )