Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
68 - 627
بنے’’اَﷲ اَکْبَر‘‘کی صدائیں بلند کرنے لگے۔چاروں طرف سے اَنصار جوشِ مَسَرَّت میں آتے اور بارگاہ ِرِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں صلاۃ و سلام کا نذرانۂ عقیدت پیش کرتے۔اکثر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پہلے ہجرت کرکے آئے  تھے وہ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائناتعَلیُّ الْمُرْتَضٰیشیرِخداکَرَّمَ اللہُ تعالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْمبھی حکمِ نَبَوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکّۂ مکرَّمہسے چل پڑے تھے وہ بھی آگئے اوراِسی مکان میں قِیام فرمایا اور حضرتِ کُلْثُوم بن ہِدم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ اور اِن کے خاندان والے ان تمام مُقَدَّس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے۔ 						         (سیرت مصطفیٰ، ص۱۷۱)
	حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ جب نُورِ مجَسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَدِینَۂ مُنَوََّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا تشریف لائے تو آپ کی آمد سے دَر و دِیوار ایسے روشن ہوگئے جیسے آفتاب طلوع ہوگیا ہو اور اسی طرح جب نُبُوَّت کے آفتاب ،جنابِ رسالت ماٰب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا سے پردہ فرمایا تو عالم تاریک ہوگیا بالکل ایسے ہی جیسے سورج غروب ہونے سے اندھیرا جھا جاتا ہے۔ 		مدارج النبوہ، ۲/ ۶۳) 
وہ تیری تجلی دل نشیں کہ جھلک رہے ہیں فَلَک زمیں
تیرے صدْقے میرے مہِ مبیں میری رات کیو ابھی تار ہے
	اللہعَزَّوَجَلَّہمیں بروزقیامت نبیِّ آخرالزماں ،سروَرِذیشاں ،رحمتِ عالَمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے پیچھے جنتُ الفِردَوس میں جانے کی توفیق عطافرمائے اورہماری یہ دِلی آرزوپوری فرمائے کہ
باغ جنت میں محمد مسکراتے جائیں  گے
پھول رحمت کے جھڑیں گے ہم اٹھاتے جائیں گے