Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
67 - 627
ہو ئی جومُلک ِشام سے تجارت کا سامان لا رہے تھے۔انہوں نے حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدِّیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں چند نفیس کپڑے بطورِ نذرانہ پیش کئے جنہیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبول فرما لیا۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۳)
سرکار کی آمد ،مرحبا!
 	 سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آمد کی خبر چونکہ مدینۂ منورہ میں پہلے سے پہنچ چکی تھی اور عورتوں بچوں تک کی زبانوں پر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تشریف آوری کا چرچا تھا۔اہلِ مدینہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دیدارکیلئے انتہائی مشتاق وبے قرارتھے۔ روزانہ صبح شہر سے باہرجا کر سراپا انتظار بن کر اِستِقبَال(اِس۔تِقْ۔بَال)کیلئے تیار رہتے تھے،جب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت و افسوس کے ساتھ گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ایک دن اہل مدینہ انتظار کر کے واپس جا چکے تھے کہ اچانک ایک یہودی نے اپنے قَلعَہ (قَل۔عَہ) سے دیکھاکہ تاجداردوعالَم(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) مدینۂ منورہ کے قریب تشریف لاچکے ہیں۔تواس نے باآواز بلند پکارا:’’اے اہلِ مدینہ!تم جس کاروزانہ اِنتِظَار(اِن۔تِ۔ ظَار)کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔‘‘یہ سنتے ہی تمام اَنصار ہتھیاروں سے لیس ہو کر،وَجدوشادمانی کی کیفیت میں دو عالَم کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِقبَال(اِس۔تِقْ۔بَال)کیلئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرہِ تکبیر کی آوازوں سے تمام شہر گونج اُٹھا۔
(مدارج النبوۃ، ۲/۶۳)
	ماہِ ربیع االاوَّل میں بے چین دِلوں کے چَین،رحمتِ دارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم’ ’  قَبِیلَۂ عَمروبِن عَوف‘‘ کے خاندان میں حضرتِ سیِّدُنا کُلْثُوم بن ہِدم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔وہ مکان  مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاسے3میل کے فاصلہ پر وہاں تھا جہاں آج’’مَسجدِقُبَائ‘‘بنی ہوئی ہے۔اہلِ خاندان نے اس فخر و شَرَف پر کہ دونوں عالَم کے میزبان،رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِن کے مہمان