تصدیق و تحقیق کے لئے وہ کنگن حضرت سیِّدُناسُرَاقَہ بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہنا دیئے اور فرمایا:اے سُرَاقَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ! کہو’’اللہ سب سے بڑا ہے تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں جس نے یہ کنگن بادشاہِ فارس کِسرٰی سے چھین کر سُرَاقہبَدَوِی کو پہنا دیئے۔‘‘حضرت سیِّدُناسُرَاقَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عُثمان غَنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ (شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۴۵)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
مَدَنی جُلُوس
جب نبیِّ رحمت،شفیعِ امت،مالِک کوثروجنتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدِینَۂ مُنَوََّرَہکے قریب پہنچے تو’’بُرَیدَہ اَسلَمِی‘‘قبیلۂ بَنِی سَہْم کے70سواروں کو ساتھ لے کر قریش سے انعام پانے کے لالچ میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گرفتاری کے لئے آیا اور پوچھا:’’آپ کون ہیں ؟‘‘فرمایا:’’میں محمد بن عبد اللہہوں ا ور اللہ عَزَّوَجَلکا رسول ہوں۔‘‘شہنشاہِ خوش خِصال،سلطانِ شیریں مَقال،پیکرِ حسن وجمالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ کلام سن کر اس کے دل پر جمال و جلالِ نَبُوَّت(نَ۔بُو۔وَت)کا ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمۂ شہادت پڑھ کر دامنِ اِسلام میں آگیااورکمالِ عقیدت سے عرض گزارہوا’’یَا رَسُولَ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری تمنا ہے کہ مدینۂ منوَّرہمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا داخِلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہو۔‘‘یہ کہہ کر اپناعِمَامَہ اتارکرنیزے پر باندھا اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیعَلَمْبَرْدار بن کراس مَدَنی جلوس کے ساتھ مدینہ منورہ تک آگے آگے چلتے رہے۔پھر دریافت کیا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ میں کہاں قیام فرمائیں گے؟ فرمایا:’’میری اونٹنی جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے کیونکہ یہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے مامور ہے۔‘‘(مدارج النبوۃ، ۲/۶۲)
مانع شرعی نہ ہو تو تحفہ قبول کرنا سُنَّت مُبارَکہ ہے
اِس سفر میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ملاقات اپنے بعض اصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنسے