وزاری پر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دریائے رحمت جوش میں آگیا۔دعا فرمائی تو زمین نے اس کے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔سُرَاقَہ نے عرض کی :’’مجھے اَمن کا پروانہ لکھ دیجیے۔‘‘چنانچہ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر حضرت سَیِّدُنا عامر بن فُہَیْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سُرَاقَہ کے لئے اَمن کی تحریر لکھ دی۔سُرَاقَہ نے وہ تحریراپنے تَرکش میں رکھ لی۔پھر کچھ سامانِ سفر بھی حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کیا مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبول نہ فرمایا۔چنانچہ، وہ واپس چلاگیا۔راستے میں جوبھی حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں دریافت کرتا تو سُرَاقَہ اُسے یہ کہہ کر لوٹا دیتا کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس طرف نہیں ہیں۔(بخا ری، کتاب المناقب، باب ھجرۃ النبی…الخ، ۲/۵۹۳، حدیث:۳۹۰۶) (شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۴۳)، ( مدارج النبوۃ ، ۲/۶۲ )
سُرَاقَہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوا مگرحُضُورِ پاک،صاحبِ لَولاک،سیّاحِ افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت ِنبوت اور اسلام کی صداقت کا سِکَّہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔جب حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتحِ مکہ اور جنگِ طائف وحُنَین سے فارغ ہو کر’’جِعِرَّانَہ‘‘میں قیام فرمایا تو سُرَاقَہ اپنے قبیلے کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ بارگاہِ نُبُوَّت میں حاضر ہوکرمُشَرَّف بَہ اسلام ہوگیا۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۲)
کِسریٰ کے کنگن حضرتِ سیِّدُناسر ا قَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ میں
جب سراقہ حضور کے تعاقب میں آیا تھا تو اس وقت ہمارے غیب دان آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبر دیتے ہوئے اُس سے فرمایا تھا:’’کَیْفَ بِکَ اِذَا لُبِِسْتَ سِوَارَیْ کِسْرٰی؟‘‘ ترجمہ:(اے سُرَاقَہ!)تیرا کیا حال ہو گا جب تجھے ’’کِسرٰی‘‘کے دونوں کَنگَن پہنائے جائیں گے؟اس اِرشاد کے بَرسوں بعد جب امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں ’’اِیران‘‘فتح ہوا اور کِسرٰی کے کَنگَن دربارِ خِلافت میں لائے گئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تاجدار دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی