حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ مَعْبَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی یہ بکری حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارک کی برکت سے اٹھارہ سال تک زندہ رہی اوربرابردودھ دیتی رہی۔خلیفۂ ثانی اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرت سَیِّدُناعمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِخلافت میں جب’’عَامُ الرَّمَاد‘‘سخت قحط پڑا اور بہت سی مخلوق ہلاک ہو گئی تمام جانوروں کادودھ خشک ہوگیالیکن یہ بکری اس وقت بھی صبح و شام برابردودھ دیاکرتی تھی۔(مدارج النبوۃ، ۲/۶۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ اللہعَزَّوَجَلَّنے ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوکیسے کیسے معجزات عطافرمائے کہ وہ بکری جس کادودھ بالکل خشک ہوگیا تھا،آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارَک کی برکت سے ایسی بابرکت ہوئی کہ جب تک زندہ رہی کبھی اس کادودھ ختم نہ ہوا۔اللہعَزَّوَجَلَّ ان مبارک ہاتھوں کے صدقے ہمیں اِیمانِ کامل کی دولت سے مالامال فرمائے۔دین کی راہ میں جوتکالیف آئیں ان پر صبرکرنے کی توفیق اوراپنی دائمی رِضاسے مالامال فرمائے،جس وقت لوگوں کے دل مُردہ ہوں اس وقت ہمارے دِلوں کو ایمان کی سلامتی عطافرمائے،ہماراایمان سدابہاررکھے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے
جب حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سَیِّدَتُنااُمِّ مَعْبَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھرسے روانہ ہوئے تو ایک مشہورشہسوارسُرَاقَۃ بِنْ مَالِک بِنْ جُعْشُمْتیز رفتار گھوڑے پر سوار تعاقب کرتانظر آیا۔قریب پہنچ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیاتو اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا مگر سو اونٹوں کا انعام کوئی معمولی چیز نہ تھی۔انعام کے لالچ میں وہ دوبارہ حملہ کی نِیَّت سے آگے بڑھا تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا سے پتھریلی زمین میں اس کے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک دھنس گئے۔سراقہ یہ معجزہ دیکھ کر خوف و دہشت سے کانپتے ہوئے اَلْاَمَان!اَلْاَمان! پکارنے لگا۔نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دل رحم و کرم کا سمندر تھا،سُرَاقَہ کی لاچاری اور گِریہ