وَثَانِیُ اثْنَیْنِ فِی الْغَارِالْمُنِیْفِ وَقَدْ طَافَ الْعَدُوُّبِہٖ اِذْصَاعَدَالْجَبَلَا
کَانَ حِبَّ رَسُوْلِ اﷲِ قَدْ عَلِمُوْا مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ یَعْدِلْ بِہٖ بَدَلَا
ترجمہ:اور دومیں سے دوسرے (یعنی صدیقِ اکبر )جب کہ پہاڑ پر چڑھ کر بلند مرتبہ غار میں اس حال میں تھے کہ دشمن ان کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا اور وہ (یعنی صدیقِ اکبر ) رَسُوْلُ اللہکے محبوب تھے، تمام مخلوق جانتی ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی کو بھی ان کے برابر نہیں ٹھہرایا ہے ۔(شرح المواھب، ۲/۱۱۰،۱۱۴،۱۱۵،۱۲۲،۱۲۴)
بہرحال چوتھے دن یکم ربیع ُالاوَّل دوشنبہ کو( پیرکے دن)حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغارِثورسے باہر تشریف لائے۔’’عَبْدُاﷲ بِنْ اُرَیْقَط‘‘بھی حسبِ وعدہ اونٹنیاں لے کرغارثورپرحاضرتھا۔ایک اونٹنی پرحضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوارہوئے اورایک پر حضرت سیِّدُناصِدِّیق اکبر اورحضرت سیِّدُناعامر بن فُہَیْرَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیٹھے،جبکہ’’عَبْدُاﷲ بِنْ اُرَیْقَط‘‘آگے آگے پیدل چلنے لگاوہ عام راستے سے ہٹ کرساحل سمندرکے غیرمعروف راستوں پرچل رہاتھا۔اُدھرکفارِمکہ نے اعلان کردیاکہ جوکوئی محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو گرفتارکرکے لائے گااسے سو(100)اونٹ بطورِ انعام دئیے جائیں گے۔’’مقامِ قُدَیْد‘‘میں اُمِّ مَعْبَدعَاتِکَۃ بِنْت خَالِدخُزَاعِیَہ نامی ایک بڑھیااپنے خیمے کے پاس بیٹھ کر مسافروں کوکھانا،پانی دیاکرتی تھی۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے کھاناوغیرہ خریدناچاہا توسوائے ایک لاغَربکری کے اس کے پا س کوئی چیزنہ تھی۔ رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’کیایہ دودھ دیتی ہے؟‘‘اُمِّ مَعْبَد نے عرض کی:’’نہیں ‘‘حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اگرتم اجازت دوتومیں اس کادودھ نکال لوں۔‘‘اس نے ہاں کی توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’بِسْمِ اﷲ‘‘پڑھ کراس کے تھنوں پردستِ بابرکت پھیرا تووہ دودھ سے بھرگئے اوراتنادودھ نکلاکہ سب سیرہوگئے اوراُمِّ مَعْبَدکے تمام برتن بھی بھرگئے۔اس مُعجِزے کی برکت سے اُمِّ مَعْبَداوراس کاخاونددونوں مسلمان ہوگئے ۔(شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۳۰،۱۳۱،۱۳۴)