جسے اللہرَکھے اُسے کون چکھے
صدیقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے جوان فرزَندحضرت سَیّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروزانہ رات کوغارکے دَہانے پرسوتے اورصبح سویرے مَکَّۂ مُکَرَّمَہچلے جاتے اورپتہ لگاتے کہ قریش کیاتدبیریں کررہے ہیں ؟جوخبرملتی شام کوآکرحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کردیتے۔صدیق اکبررضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے غلام حضرت سَیّدُنا عامربن فُہَیْرَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرات کوچراگاہ سے بکریاں لے آتے تودوعالَم کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اوریارِغاربکریوں کادودھ نوش فرماتے۔(شرح زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۲۷۔۱۲۸)حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو’’غارِثور‘‘میں تشریف فرماتھے۔اُدھرکاشانۂ نبوت کامُحاصَرہ کرنے والے کفارجب صبح کومکان میں داخل ہوئے توبسترِنبوت پر اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرت سَیّدُنا علی المُرتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کوپایا۔ظالموں نے تھوڑی دیرپوچھ گچھ کرکے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوچھوڑدیا۔پھرمکہ اوراطراف وجوانب کاچپہ چپہ چھان مارا،یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غارِثورتک جاپہنچے مگر غارکے منہ پراس وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت کا ایسا پہرہ لگاہواتھاکہ غارکے منہ پرمکڑی نے جالاتَن دیاتھااورکنارے پر کبوتری نے انڈے دیدئیے تھے۔یہ دیکھ کر کفارِ قریش آپس میں کہنے لگے کہ اگراس غارمیں کوئی انسان ہوتاتونہ مکڑی جالاتَنتی نہ کبوتری انڈے دیتی۔کفارکی آہٹ پاکرصدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکچھ گھبرائے اورعرض کی:’’یَا رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اب دشمن اس قدرقریب ہیں کہ اگروہ اپنے قدموں پرنظرڈالیں توہمیں دیکھ لیں۔‘‘آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا۔(ترجمۂ کنزالایمان:غم نہ کھابے شک اللہہمارے ساتھ ہے)(پ:۱۰،التوبۃ:۴۰)اس کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّنے صدیقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قَلب پرایسا سکون واطمینان اُتاراکہ وہ بالکل بے خوف ہوگئے۔ یارِغارکی یہی وہ جاں نثاریاں ہیں جنہیں دَربارِنَبُوَّت(نَبُو۔وَت) کے مشہورشا عِرحضرت سَیّدُناحسّان بن ثابِت اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے شعرکی صورت میں یوں بیان فرمایا: