Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
61 - 627
	رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے دولت خانہ سے نکل کرمقام’’حَزْوَرَہ‘‘کے پاس کھڑے ہوگئے اوربڑی حسرت کے ساتھکعبۂ مُعَظَّمَہزَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کودیکھ کرفرمایا:’’اے شہرمکہ!تومجھے تمام دنیاسے زیادہ پیاراہے،اگرمجھے یہاں سے جانے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں یہاں سے نہ جاتا ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب المناسک،باب فضل مکۃ، ۳/۵۱۸، حدیث:۳۱۰۸)
	 حضرت سَیِّدُنا صدیقِ اکبررضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    بھی اسی جگہ آگئے اوراپنے پیارے آقاومولیٰ، دوعالَم کے داتاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواپنے کندھوں پر سوار کرلیاتاکہ قَدَمَیْن شَرِیْفَیْن زخمی نہ ہوں اورکفارِمکہ قدموں کے نشان دیکھ کرتعاقُب(پیچھا)نہ کریں۔پھرآپ رضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخاردارجھاڑیوں اورنوک دارپتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات’’غارِثور‘‘پہنچ گئے۔(مدارج النبوۃ، ۲/۵۸)آپ رضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپہلے خودغارمیں داخل ہوئے اوراچھی طرح غارکی صفائی کی،اپنے بدن کے کپڑے پھاڑپھاڑکرغارکے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ پھرحضورِاکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غارکے اندرتشریف لے گئے اورصدیق اکبررضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی گودمیں اپناسرِمُبارَک رکھ کرسوگئے۔صدیق اَکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک سوراخ کواپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا، سوراخ کے اندرسے ایک سانپ نے بارباریارِغارکے پاؤں پرکاٹامگرصدیقِ جاں نثارنے اس خیال سے پاؤں نہ ہٹایاکہ رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوابِ راحت میں خَلَل نہ پڑجائے مگردردکی شدت سے آنسوؤں کے چندقطرے سرورِکائنات کے رُخسارِپُراَنوارپرنثارہو گئے۔جس سے رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیدار ہوگئے اوریارِغارکوروتادیکھ کربے قرارہوکرپوچھا:’’ابوبکر! کیاہوا؟‘‘عرض کی:’’یَارَسُوْلَ اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے سانپ نے کاٹ لیاہے۔‘‘یہ سن کرطبیبوں کے طبیب حبیبِ لَبِیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زخم پراپنالُعابِ دَہَن لگادیاجس سے فوراًہی سارادردجاتارہا۔حضورِاقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتین رات اس غارمیں رونق اَفروزرہے۔ (شرح  زرقانی علی المواھب للعلامۃ القسطلانی، ۲/۱۲۱- ۱۲۷)