Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
60 - 627
 امانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا علی المُرتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے فرمایاکہ’’تم میری سبزچادراوڑھ کرمیرے بسترپرسوجاؤاورمیرے جانے کے بعدتمام اَمانتیں ان کے مالِکوں کوپہنچاکرمَدِینَۂ مُنَوََّرَہچلے آنا۔‘‘اگرچہ یہ بہت خوفناک اورسخت خطرے کاموقع تھا۔مگر نَبیِّ غیب دان، سَروَرِ ذِیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان پر کہ’’تم ساری امانتیں لوٹا کر مَدِینَۂ مُنَوََّرَہچلے آنا‘‘آپ کویقینِ کامل تھاکہ میں زندہ رہوں گااورمَدِینَۂ مُنَوََّرَہ ضرورپہنچوں گا۔چنانچہ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبسترِنبی پرصبح تک بڑے آرام سے میٹھی نیند سوتے رہے۔اپنی اس سعادت مندی پرفخرکرتے ہوئے شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اپنے اشعارمیں فرمایا:
وَقَیْتُ بِنَفْسِیْ خَیْرَمَنْ وَطِیَٔ الثَّرٰی		وَمَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ وَبِالْحَجَر
رَسُوْلُ اِلٰہٍ خَافَ اَنْ یَّمْکُرُوْابِہٖ 			فَنَجَّاہُ ذُوالطَّوْلِ الْاِلٰہُ مِنَ الْمَکْر
	ترجمہ:’’میں نے اپنی جان کوخطرے میں ڈال کراس ذات گرامی کی حفاظت کی جوزمین پرچلنے والوں اورخانۂ کعبہ وحجرِ اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتراوربلندمرتبہ ہیں ،رسولِ خدا کویہ اندیشہ تھاکہ کُفارِمکہ ان کے ساتھ مکرکریں گے مگرخدائے رحیم وکریم نے انہیں کافروں کے مکرسے محفوظ رکھا۔‘‘ (شرح  زرقانی علی المواھب للعلامۃ ا لقسطلانی، ۲/۹۵-۹۶)
	حضورنبیِّ کریم،رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بسترِنبوت پر جانِ ولایت کو سُلا یااور ایک مٹھی خاک دَست مبارک میں لے کرسورۂ’’یٰسٓ‘‘کی ابتدائی آیتیں تلاوت فرماتے ہوئے باہرتشریف لائے اورمحاصرہ کرنے والے کافروں کے سروں پرخاک ڈالتے ہوئے ان کے مجمع سے صاف نکل گئے۔نہ کسی کونظرآئے نہ کسی کوکچھ خبرہوئی۔ایک دوسراشخص جواس مجمع میں موجودنہ تھااس نے انہیں بتایاکہ محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) توتمہارے سروں پرخاک ڈال کریہاں سے جاچکے ہیں۔جب اُن کَوربختوں (بدنصیبوں )نے اپنے سروں پرہاتھ پھیراتوواقعی خاک اوردُھول سے ان کے سراَٹے ہوئے تھے۔(الطبقات الکبری لابن سعد، ۱/۱۷۶)