دواونٹنیاں بَبُول کی پَتِّی کھلاکھلاکرتیارکی تھیں کہ ہجرت کے وقت یہ سواری کے کام آئیں گی،عرض کی’’یَارَسُولَ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ان میں سے ایک اونٹنی آپ قبول فرما لیں۔‘‘آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:’’قبول ہے مگرہم اس کی قیمت ادا کریں گے۔‘‘صدیق اکبررضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمانِ رِسالت کے آگے سرِ تسلیم خَم کرتے ہوئے اس کو قبول کیا۔ حضرت سَیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاچونکہ اس وقت کم عمرتھیں اس لئے ان کی بڑی بہن حضرت سَیِّدَتُنااَسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے سامانِ سفرتیارکیااورتَوشہ دان میں کھانارکھ کراپنی کمرکے پَٹکے کوپھاڑکردوٹکڑے کئے، ایک سے توشہ دان باندھااوردوسرے سے مَشکیزے کامنہ باندھ دیا۔یہ وہ قابلِ فخرشرف ہے جس کی بِناپرانہیں ’’ذَاتُ النِّطَاقَیْن‘‘(یعنی دوپٹکے والی)کے مُعَزَّزلَقَب سے یادکیاجاتاہے۔حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راستوں کے ماہر’’عَبْدُاللہ بن اُرَیْقَطْ‘‘نامی ایک کافرکواُجرت پرلیااوراسے دواونٹنیاں دے کر فرمایا کہ ’’تین راتوں کے بعدان اونٹنیوں کو لے کر’’غارِثَوْر‘‘ کے پاس آجانا۔یہ ساراانتظام کرلینے کے بعدآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے مکانِ اَقْدَس پرتشریف لے آئے۔
(بخا ری، کتاب المناقب، باب ھجرۃ النبی…الخ، ۲/۵۹۲، حدیث:۳۹۰۵)
کاشانۂنبوت کا مُحاصَرَہ
کفارِمکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کوگھیرلیااورقاتلانہ حملے کیلئے آپ کے سونے کااِنتِظار کرنے لگے۔اس وقت آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشانۂ نبوت میں اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ المُرتَضٰی شیرِ خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے سواکوئی اورنہ تھااورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکومعلوم تھا کہ کفَّارِمکہ نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قتل کے اِرادے سے پورے گھرکامُحاصَرَہ کیاہواہے۔کفارِمکہ اگرچہ رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بدترین دشمن تھے مگراس کے باوجودنبیِّ صادق واَمین کی امانت ودیانت پر اس قدراِعتِمادتھاکہ اپنی قیمتی اشیاء آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس امانت رکھتے تھے۔اس وقت بھی بہت سی