وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)بھی مدینے چلے جائیں اوروہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کرہم پرچڑھائی کردیں۔ چنانچہ، اس خطرہ کا دروازہ بندکرنے کیلئے کفارِمکہ نے اپنے دارُا لنَّدْوَہ(پنچائت گھر)میں ایسی کانفرنس منعقدکی کہ مکہ کاکوئی ایسا دانشور اور بااثرشخص نہ تھاجواس میں شریک نہ ہواہو۔بالخصوص ابوسفیان،ابوجہل،عتبہ،جُبیربن مُطْعِم،نَضربن حارث، ابوالبَخْتَرِی،زَمعہ بن اَسوَد،حکیم بن حِزام،اُمیہ بن خلف جیسے سردارتوپیش پیش تھے۔شیطانِ لعین بھی کمبل اوڑھے ایک بوڑھے کی صورت میں آگیا۔جب نام ونسب پوچھاگیاتوبولاکہ میں ’’شیخِ نجد‘‘ہوں تمہارے معاملہ میں اپنامشورہ دینے آیاہوں۔چنانچہ، اس ملعون کوبھی شامل کرلیاگیا۔کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی توابوالبَخْتَرِینے یہ کہا: ’’محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوکسی کوٹھری میں بندکرکے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دواورایک سوراخ سے کھانا پانی دے دیاکرو۔‘‘شیخ نجدی(شیطان)نے کہا:’’یہ رائے اچھی نہیں ہے، خدا کی قسم!اگرانہیں کسی مکان میں قیدکر دیا گیاتویقینااُن کے جاں نثاراَصحاب کوخبرہوجائے گی اوروہ اپنی جان پرکھیل کربھی انہیں قیدسے آزاد کرا لیں گے۔‘‘ اَبُو الْاَسْوَد،رَبِیْعَہ بِنْ عُمَراورعَامِری نے کہاکہ انہیں مَکَّۂ مُکَرَّمَہسے نکال دوتاکہ یہ کسی دوسرے شہرمیں جاکررہیں۔ اس طرح ہمیں ان کے قراٰن پڑھنے اوران کی تبلیغِ اسلام سے نجات مل جائے گی۔شیخ نجدی نے بگڑکرکہا:’’تمہاری اس رائے پرلعنت ہو،کیاتم لوگوں کومعلوم نہیں کہ اس کے کلام میں کتنی مٹھاس اورتاثیرہے ؟خداکی قسم!اگرتم انہیں شہربدرکروگے تویہ قراٰن سناسناکرتمام قبائلِ عرب کواپناتابع بنالیں گے اورپھراپنے ساتھ ایک عظیم لشکرلے کرتم پرایسی یلغارکریں گے کہ تم ان کے مقابلہ سے عاجزو لاچار ہوجاؤگے اورپھران کے غلام بن کر رہوگے،اس لئے ان کوجِلاوطن کرنے کی توبات ہی مت کرو۔‘‘پھر ابوجہل ملعون نے کہا:’’میری رائے یہ ہے کہ ہرقبیلہ کاایک ایک مشہوربہادرتلوارلے کراٹھ کھڑاہواورسب یکبارگی حملہ کرکے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوقتل کر ڈالیں (مَعَاذَاللہ)اس طرح قتل کا جُرم تمام قبیلوں کے سرپرآئے گااورظاہرہے کہ خاندان بنو ہاشم اس خون کابدلہ لینے کیلئے تمام قبیلوں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔یقیناوہ خون بَہالینے پرراضی ہو جائیں گے اورہم سب مل کرآسانی سے خون بَہاکی رقم اداکردیں گے۔‘‘ابوجہل کایہ خونی منصوبہ سن کرشیخ نجدی مارے خوشی کے اُچھل پڑا اور کہا:’’ بیشک!