Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
56 - 627
سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما فرماتے ہیں :’’ نجاشی کا جنازہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے ظاہر کردیا گیاتھا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے دیکھا اور نماز جنازہ پڑھائی۔‘‘ (عمد ۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ۶/ ۱۶۴، تحت الحدیث:۱۳۱۸)
اللہعَزَّوَجَلَّکی ان پررَحْمَت ہواوراُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
(2) مکۂ مکرمہ سے سوئے مدینہ 
	جب مَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کے قبائل بنو خَزْرج و بنواَوس کے چند افراد ایمان لائے اور انہوں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہ  آنے کی دعوت دی تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رِضْوانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کوعام اجازت دے دی کہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہسے ہجرت کرکے مَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہچلے جائیں۔ چنانچہ، سب سے پہلے حضرتِ سَیِّدُناابوسلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ہجرت کی۔ان کے بعدیکے بعددیگرے دوسرے صحابۂ کرام رِضْوانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنبھیمَدِینَۂ مُنَوََّرَہروانہ ہونے لگے۔جب کفارِقریش کوپتہ چلاتوانہوں نے روک ٹوک شروع کردی مگرچھپ چھپ کرہجرت کاسلسلہ جاری رہایہاں تک کہ رفتہ رفتہ بہت سے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مدینہ منورہ چلے گئے۔مَکَّۂ مُکَرَّمَہمیں صرف وہی حضرات رہ گئے جویاتوکافروں کی قیدمیں تھے یااپنی مفلسی کی وجہ سے مجبور تھے۔ حضورِ اَکرم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوچونکہ ابھی تک اپنے ربِّ کریم کی طرف سے ہجرت کاحکم نہیں ملاتھااس لئے آپ اورآپ کے حکم پر اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدُناابوبکرصدیق اورحضرت سَیِّدُناعلِیُّ المُرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  بھیمَکَّۂ مُکَرَّمَہ ہی میں ٹھہرے رہے۔ (ملخص از سیرۃلابن ہشام، ص۱۹۱)
خونی منصوبہ
	جب کفارِمکہ نے دیکھاکہمَکَّۂ مُکَرَّمَہسے باہربھی مسلمانوں کے مددگارہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ جانے والے مسلمانوں کوانصارنے اپنی پناہ میں لے لیاہے توکفارِمکہ کویہ خطرہ محسوس ہواکہ کہیں ایسانہ ہوکہ محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ