Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
55 - 627
 تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں یہی بتایاہے کہ حضرت سَیِّدُناعیسیٰ(عَلَیْہِ السَّلَام)خدا کے بندے اوراس کے رسول ہیں اورکنواری مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کے شِکم مُبارَک سے بغیرباپ کے خداکی قدرت کانشان بن کرپیداہوئے۔‘‘نجاشی نے بڑے غورسے یہ سب باتیں سنیں اورکہا:’’بلاشبہ اِنجیل مُقَدَّس اورقراٰنِ کریم دونوں ایک ہی آفتابِ ہدایت کے دونورہیں اوریقیناحضرت سَیِّدُناعیسیٰ( عَلَیْہِ السَّلَام)خداکے بندے اوراس کے رسول ہیں اورمیں گواہی دیتاہوں کہ بے شک!حضرت محمد(صََلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)خداکے وہی رَسول ہیں جن کی بِشارت حضرت سَیِّدُناعیسیٰ( عَلَیْہِ السَّلَام) نے اِنجیل مُقَدَّس میں دی اور اگر میں دستورِسلطنت کے مطابق تختِ شاہی پررہنے کاپابندنہ ہوتاتومیں خودمَکَّۂ مُکَرَّمَہجاکراس نبیِّ آخِرُالزَّماں کی نَعلَین شَرِیفَین سیدھی کرتااوران کے مبارک قدم دھوتا۔‘‘بادشاہ کی تقریرسن کر مُتَعَصِّبْ(مُتَ۔عَص۔صِب) قسم کے عیسائی ناراض وبَرْہَم ہوگئے مگرنجاشی نے جوشِ ایمانی میں سب کوڈانٹ پھٹکارکر خاموش کردیااورکفارِمکہ کے تحائف بھی واپس لوٹادیئے۔کفارِمکہ کے سفیرعمروبن العاص اورعمارہ بن وَلیدکودربارسے نکلوا دیااورمسلمانوں سے کہہ دیاکہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہواَمن وسکون سے آرام وچین کی زندگی بسرکرو،کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑسکتا۔
(شرح المواہب، ۱/۵۰۶ و مسند احمد بن حنبل، ۲/۱۸۷، حدیث:۴۴۰۰، ملخصاً)
	 ہمارے اَسلاف رِضْوانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے دینِ اسلام کی خاطِرانتہائی سخت تکالیف برداشت کیں اورہر طرح اپنے دین کی حفاظت کی!تواللہعَزَّوَجَلَّنے انہیں آسانیاں عطافرمادیں۔نجاشی بادشاہ کے دل میں دینِ اسلام اورنبی ٔآخِرُالزماں کی محبت ڈال دی۔چنانچہ،اس نے حق کااِظہار کرتے ہوئے اپنے دِلی جذبات کوبھرے دربارمیں عَلَی الْاِعلانبیان کیا،اگرچہ اس کے کثیردرباری ناراض ہوگئے لیکن اس نے کسی کی پروا نہ کی۔پھرحق تعالیٰ نے اسے دینِ اسلام کی دولت سے مالامال کردیا۔اگرچہ وہ نبیِّ آخرُالزَّماں کی زیارت نہ کرسکے لیکن ان کا دل یادِمصطفٰے سے معمورتھا۔جب حبشہ میں اُن کاانتقال ہواتونبیِّغیب داں ، رحمتِ عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ شریف میں ان کی نمازِجنازہ اداکی اوردعائے مغفرت فرمائی۔ چنانچہ، عمدۃ القاری میں ہے حضرتِ