Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
54 - 627
ملک میں رہنے لگے ہیں۔ آپ انہیں ہمارے حوالے کردیجیے۔‘‘یہ سن کرنجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کوطلب کیا تو حضرتِ سَیِّدُناعلیُّ المُرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بھائی حضرت سَیِّدُناجعفررَضِیََ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُ  مسلمانوں کے نمائندے بن کرگفتگوکیلئے آگے بڑھے آپ نے بادشاہ کوسجدہ نہیں کیابلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہوگئے۔ درباریوں نے ٹوکاتوآپَرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خداکے سواکسی اورکوسجدہ کرنے سے منع فرمایاہے،اس لئے میں بادشاہ کوسجدہ نہیں کرسکتا۔‘‘ پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نَجَاشی کے دربار میں یوں تقریر فرمائی:’’اے بادشاہ!ہم ڈکیتی،ظلم وستم اورطرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلاتھے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہماری قوم میں ایک شخص کواپنارسول بناکربھیجاجس کے حَسَب ونَسَب اورصِدق ودِیانت کوہم پہلے سے جانتے تھے، اس رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں صرف اورصرف خدائے واحِدکی عبادت کاحکم دیااورہرقسم کے ظلم وستم اورتمام برائیوں اوربدکاریوں سے منع فرمایا،ہم اس رسول پرایمان لائے اورشرک وبُت پرستی چھوڑکرتمام بُرے کاموں سے تائب ہوگئے۔بس یہی ہماراجرم ہے جس پرہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی اوراِن لوگوں نے ہمیں اتناستایاکہ ہم اپنے وطن کوچھوڑکرآپ کی سلطنت میں آگئے اورپُرامن زندگی بسرکرنے لگے۔اب یہ لوگ ہمیں مجبور کررہے ہیں کہ ہم پھراسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں۔‘‘
نَجَاشِی دامنِ اسلام میں 
	حضرتِ سَیِّدُناجعفرَرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایمان افروز بیان سے نجاشی بادشاہ بے حدمتاثرہوا۔یہ دیکھ کرکفارِمکہ کے سفیرعمرو بن العاص نے اپنے تَرکَش کاآخری تیربھی پھینکتے ہوئے کہا:اے بادشاہ!یہ لوگ آپ کے نبی عیسیٰ( عَلَیْہِ السَّلَام)کے بارے میں ایساعقیدہ رکھتے ہیں جوآپ کے عقیدے کے بالکل ہی خلاف ہے۔نجاشی نے حضرت سَیِّدُناجعفرَرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس بارے میں سوال کیاتوآپ نے پارہ16،سورئہ مریم کی تلاوت فرمائی،کلامِ رَبّانی کی تاثیرسے نجاشی پررِقَّت طاری ہوگئی اورآنکھیں آنسوبہانے لگیں۔حضرت سَیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’ہمارے نبیِّ صَلَّی اللہُ