نے مسلمانوں پرعرصۂ حیات تنگ کردیاتورحمتِ عالَم،نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کو’’حبشہ‘‘کی جانب ہجرت کاحکم دیا۔اِعلانِنُبُوَّتکے پانچویں سال رَجَبُ المُرَجَّب کے مہینے میں گیارہ مرد اور چار عورتوں کے قافلے نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ (الطبقات الکبری لابن سعد، ۱/۱۵۹)حبشہ کے بادشاہ کا نام ’’اَصْحَمَہ‘‘ اور لقب’ ’ نَجَاشی‘‘ تھا۔ عیسائی دین کا پابند تھا مگر بہت ہی انصاف پسنداوررحم دل تھا۔توراۃ واِنجیل وغیرہ آسمانی کتابوں کابہت ہی ماہرعالِم تھا۔ (سیرت مصطفی، ص۱۲۶)
جب کفارِ مکہ کومعلوم ہواتوان ظالموں نے اُن کی گرفتاری کیلئے تعاقُب کیالیکن یہ کشتی پرسوارہوکرروانہ ہوچکے تھے۔اس لئے کفارناکام واپس لوٹے۔مہاجرین کایہ قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اُترکراَمن وامان کے ساتھ خداکی عبادت میں مصروف ہوگیا۔(الطبقات الکبری لابن سعد، ۱/۱۶۲)چنددنوں بعدناگہاں یہ خبرپھیل گئی کہ کفارِمکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔یہ سن کرچندلوگ حبشہ سے مکہ مکرمہ لوٹ آئے مگریہاں آکرپتاچلاکہ یہ خبرغلط تھی۔چنانچہ، کچھ تودوبارہ حبشہ چلے گئے اورکچھ مکۂ مکرمہ میں ہی چھپ کررہنے لگے،لیکن کفارِمکہ نے انہیں ڈھونڈنکالااوراُن پرپہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے۔نبیِ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کوپھرحبشہ چلے جانے کاحکم دیا۔چنانچہ، حبشہ سے واپس آنے والے اوران کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی (۸۳)مرداوراٹھارہ عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ (سیرت مصطفی، ص۱۲۷)
کُفارِمکہ اورنَجَاشِی
تمام مہاجرین نہایت امن وسکون سے حبشہ میں رہ رہے تھے۔کفارِمکہ کوکب گواراہوسکتاتھاکہ فرزندانِ توحید کہیں امن وچین کے ساتھ رہ سکیں۔چنانچہ، ان ظالموں نے’’ عَمروبن العاص‘‘اور’’عمارہ بن ولید‘‘کوتحائف دے کر بادشاہ حبشہ کے دربارمیں اپناسفیربناکربھیجا۔(شرح المواہب، ۱/۵۰۶) انہوں نے نجاشی کے دربارمیں تحفوں کانذرانہ پیش کیااوربادشاہ کوسجدہ کر کے فریادکرنے لگے:’’ اے بادشاہ!ہمارے خاندان کے کچھ مجرم مکۂ مکرمہ سے بھاگ کرآپ کے