Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
52 - 627
 مَکَّۂِ مُکَرَّمَہزَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاسے ہجرت میں حکمت
	امام ابوعبداللہ مُحَمَّد بِنْ عَلِی بِنْ عُمَرتَمِیْمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اولِ اسلام میں ہجرت فرض تھی تاکہ مسلمان کافروں کے شہر میں غلبے کی وجہ سے اُن کے ظلم و سِتم سے محفوظ رہیں اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُعاوِن و مددگار بنیں اور کفار کو آپ سے دور رکھیں ، پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو ہجرت فرض نہ رہی کیونکہ یہاں کے مسلمانو ں سے اَذِیت دور ہوگئی اور حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو کفار کے ضرر سے بچانے کے لئے محافظین کی ضرورت نہ رہی ۔ لیکن حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قرب پانے، آپ کی زیارت کرنے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے ہجرت مستحب ہے۔ 		      (اکمال المعلم ،کتاب الاما رۃ ، باب ا لمبایعۃ بعد فتح مکۃ… الخ، ۶/۲۷۵)
ہجرت کی اقسام 
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے ہجرت کی کئی اقسام بیان کی ہیں :
(1)ہجرتِ حبشہ(2)مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت(3)ہجرت ِشام (4)مکے کے جو لوگ اسلام لائے ان کا ہجرت کرنا  (5 )اللہعَزَّوَجَلّکی منع کردہ چیزوں سے ہجرت کرنا یعنی انہیں چھوڑ دینا ۔(عمدۃ القاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر، ۱۰/۷۹، تحت الحدیث:۲۷۸۳)
مکہ شریف سے ہونے والی تین ہجرتیں 
(1) مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت 
	جب دینِ اسلام کاسورج دنیاکواپنے نورسے مُنَوَّرکرنے کیلئے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں طلوع ہواتوکفروشرک کے سیاہ بادَل ہرطرف سے اُمنڈآئے اوراس آفتابِ کامل کی نوربار کِرنوں کوروکنے کی بھرپورکوشش کرنے لگے۔جو خوش نصیب دامنِ اسلام سے وابستہ ہوتاکفارِبداَطواراس پرظلم وسِتم کے پہاڑتوڑدیتے۔ دینِ اسلام کے شیدائی یہ سب تکالیف ہنس کربرداشت کرلیتے۔لیکن جب ان ظالموں کاظلم وسِتم حدسے بڑھ گیا اور انہوں