Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
51 - 627
’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ‘‘کا مطلب 
	علامہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعُمْدَۃُ الْقَارِی میں  فرماتے ہیں :’’فتحِ مکہ کے بعد ہجرت نہیں ‘‘ اس فرمانِ عالی شان کا مطلب ہے کہ اب مکۂ مکرمہ سے ہجرت( فرض) نہیں۔ باقی وہ جگہیں جہاں دینِـ اسلام کے احکام کی حفاظت نہ کی جاسکے وہاں سے ہجرت کرنا واجب ہے۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر، ۱۰/۷۹، تحت الحدیث:۲۷۸۳)
	جبکہ امام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ دَارُ الْحَرب سے دَارُ الْاِسلام کی طرف ہجرت قیامت تک باقی رہے گی اور حدیث مذکورکی تاویل میں دو قول ہیں :
(1) فتحِ مکہ کے بعدمَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا سے ہجرت نہیں کی جائے گی کیونکہ اب وہ دارُالاسلام بن چکا ہے اور ہجرت دارُالحرب سے کی جاتی ہے نہ کہ دارالاسلام سے اور یہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معجزات میں سے ہے کہ آپ نے آیندہ کی خبر دے دی کہ اب مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا ہمیشہ دارُ الاسلام ہی رہے گا۔ 
(2) فتحِ مکہ کے بعد مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا سے ہجرت کرنے کا ثواب اور فضیلت ویسی نہیں رہی جو فتحِ مکہ سے پہلے تھی جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے :
لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾				(پ۲۷، الحدید:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ  سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں  جنہوں نے بعدِ فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ  کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔
(شرح  مسلم للنووی، کتاب الحج، باب تحریم مکۃ وتحریم صیدھا وخلاھا وشجرھا، ۵/۱۲۳، الجزء التاسع)