Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
50 - 627
 حدیث نمبر:3 			   جہاد ونِیَّت
	عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’لَا ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ،وَلٰکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ ،وَاِذَااسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ 
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ…الخ، ص۱۰۳۶، حدیث:۱۸۶۴)
قَالَ النَّوَوِی :’’وَ مَعْنَاہُ  لَا ہِجْرَۃَ مِنْ مَکَّۃَ لِاَنَّھَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ‘‘
	ترجمہ: حضرتسیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ جنابِ رِسالت مآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:’’فتحِ مکہ کے بعدہجرت نہیں البتہ جہاداورنِیَّت باقی ہے اورجب تمہیں جہادکی طرف نکلنے کوکہاجائے توچل پڑو۔‘‘  
	اِمام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ اب مکہ سے ہجرت نہیں کیونکہ وہ دَارُالْاِسْلام بن چکا ہے۔‘‘ 
 ہجرت سے کیامرادہے؟
	علامہ میرسیدشریف جرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ہجرت کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ھِیَ تَرْکُ الْوَطْنِ الَّذِی بَیْنَ الْکُفَّارِوَالْاِنْتِقَالُ اِلٰی دَارِالْاِسْلامِ۔ترجمہ:جووطن کفارکے علاقوں کے درمیان ہواس کوچھوڑنااور دارُ الاسلام  ۱؎   کی طرف مُنْتَقِل ہوناہجرت کہلاتاہے۔					   (التعریفات،ص۱۷۲)
1)دار الحرب اور دار الاسلام کی تعریف
میرے آقا اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن دار الحرب اور دار الاسلام کی تعریف بیان فرماتے ہیں:" دارالاسلام وہ ملك ہے کہ فی الحال اس میں اسلامی سلطنت ہو،یا اب نہیں تو پہلے تھی،اور غیر مسلم بادشاہ نے اس میں شعائر اسلام مثل جمعہ و عیدین و اذان و اقامت وجماعت باقی رکھے اور اگر شعائر کفر جاری کئے اور شعائر اسلام یك لخت اٹھادئے اور اس میں کوئی شخص امان اول پر باقی نہ رہا،اور وہ جگہ چاروں طرف سےدارالاسلام سے گھری ہوئی نہیں تو دارالحرب ہوجائے گا،جب تك یہ تینوں شرطیں جمع نہ ہوں کوئی دارالاسلام دارالحرب نہیں ہوسکتا۔ "(ماخوذ از فتاوی رضویہ مخرجہ ،ج ۱۷ ،ص ۳۶۷)