Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
465 - 627
	علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : مذکورہ حدیثوں میں حاکم کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اُبھارا گیا ہے اگرچہ حاکم ظالم ہو ، لیکن اسے اس کا حق دیا جائے گا اور اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جائے گی۔ رعایا کو چاہئے کہ ظالم حاکم سے خلاصی ، اس کے شر ا ور حق تلفی کو دور کرنے اور اس کی اصلاح کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرے۔ ’’اَلْاَثَرَۃُ‘‘ کا معنی یہاں پر یہ ہے کہ اُمَرا یعنی حکمرانوں کا بَیْتُ الْمَال کے مال میں دوسروں (یعنی رعایا) کے مقابلے میں خود کو ترجیح دینا۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الامارۃ، باب وجوب الوفا ببیعۃ الخلیفۃ…الخ، ۶/۲۳۲، الجزء الثانی عشر)
مستقبل کی خبر 
	یہ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے کہ آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی خبر دی اور بالکل ایسا ہی ہوا جیسا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خبر دی تھی ۔(احکام الاحکام شرح عمدۃ الاحکام،کتاب الزکوۃ،  ۳/۳۱۲)  
	علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی عمدۃُ القاری  شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’حدیث پاک میں نَبِیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ’’  اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہنا‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ زکوۃ کا جو مال تمہیں دینا ہے ادا کرو اور اگر وقتِ ضرورت جہاد کے لئے تمہیں بلایا جائے تو اپنے آپ کو پیش کردو لیکن تمہارے وہ حقوق جو تمہیں نہیں دئیے جارہے تو ان حقوق کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرو ۔حضرتِ سَیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ اپنے حقوق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پَست آواز سے دعا کر کے مانگو کیونکہ اگر کوئی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بلند آواز سے دعا کر ے تو یہ صورت ظالم حکمرانوں کی بے عزتی کا سبب بنے گی جو فتنے وفساد کی طرف لے جائے گی۔ 
(عمدۃ القاری، کتاب الفتن،باب قول النبی ’’سترون بعدی امورا‘‘۱۶/۳۲۹، تحت الحدیث:۷۰۵۲)